اسرائیلی پناہ گزینوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’’ثابت‘‘ نے نو اپریل سنہ 1948ء میں دو انتہاء پسند یہودی تنظیموں ارگون اور لاھی کی جانب سے القدس کے گاؤں دیر یاسین میں گھس کر فلسطینیوں کے قتل عام کے مجرموں کو عدالتی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پوری فلسطینی سرزمین پر بسنے والے فلسطینی مہاجرین کو ہجرت پر مجبور کرنے والے اس اندوہناک واقعے میں درندہ صفت یہودیوں نے گاؤں میں بسنے والے 600 میں سے اڑھائی سو افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد فلسطین بھر سے عرب شہریوں نے دیگر ممالک کی جانب رخ کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کردیا تھا۔
فلسطینی پناہ گزینوں کی وطن واپسی کی جدوجہد میں مصروف تنظیم ’’ثابت‘‘ کی جانب سے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کو موصول ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ دیر یاسین قتل عام کے چونسٹھویں برس آج ہم پر اس دلدوز سانحے کو یاد کر رہے ہیں۔ تنظیم نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کے قیام کے پہلے اور بعد ہونے والے قتل عام کے 34 بڑے واقعات کبھی بھلائے نہیں جاسکتے۔ سفاک یہودی درندوں کی اسی درندگی کے سبب 1948ء کے نکبہ (بڑی مصیبت) کے موقع ہجرت کرنے والے سات لاکھ سے زائد فلسطینی آج بھی اپنی وطن واپسی کی راہ تک رہے ہیں۔
فلسطینی پناہ گزین چونسٹھ سال گزرنے کے باوجود دیر یاسین کے اس قتل عام کو نہیں بھولے اور اب بھی اس قتل عام میں شریک افراد اور اس کے ذمہ داروں کو عدالتی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے اس بربریت میں شریک دو تنظیموں میں سے ارگون کے اس وقت کے سربراہ کو بعد میں اسرائیل کے چھٹے وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

