مرکزاطلاعا فلسطین کے مطابق مئی کے شروع میں بھوک ہڑتال کرنے والے حضرعدنان کو اتوار کو علی الصباح رہا کیا گیا ہے۔جنین میں مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کے مطابق الشیخ عدنان کی رہائی کی خبر سنتے ہی سیکڑوں مقامی شہری عرابہ کے مقام پر کمانڈر عدنان کی رہائش گاہ پرجمع ہوگئے۔ گھرمیں عدنان کے والد، اہلیہ اور بچوں کے علاوہ رشتہ داروں کی بڑی تعداد بھی جمع تھی۔ گھرمیں داخل ہوتے وہاں پرموجود شہریوں نے خوشی میں الشیخ عدنان کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ اس سے قبل الشیخ خضر عدنان کو اسرائیلی فوجی چوکی سے گھر تک ایک قافلے کی شکل میں لایا گیا جہاں راستے میں بھی جگہ جگہ فلسطینی مجاھد کا شاندار استقبال کیا گیا۔ شہریوں نے ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ ان کی آمد پر گھر اور اس کے قرب وجوار میں فلسطین اور اسلامی جہاد کے پرچم لہرائے گئے۔
نامہ نگار کا کہنا تھا کہ الشیخ عدنان طویل بھوک ہڑتال کی وجہ سے اپنے پائوں پر صحیح طورپر چلنے پرقادر نہیں بلکہ وہ لاٹھی کے سہارے چلتے ہیں۔ بھوک ہڑتال کی وجہ سے انہیں بہت کمزور کردیا ہے تاہم ان کے چہرے پرجیل سے رہائی اور اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی خوشی واضح دکھائی دے رہی تھی۔ رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ میں نے یہ عزم کیا تھا کہ یا تو بھوک ہڑتال مجھے صہیونی دشمن کی قید سے نجات دلائے گی یا مصائب وآلام سے بھرپور زندگی سے جان چھڑائے گی۔ آج وہ فتح مند تھے اور ہاتھ کی دو انگلیوں کے اشارے سے انہوں ںے اپنی فتح کا اعلان کیا۔
گھر پہنچنے کے بعد انہوں نے اپنی رہائی سے متعلق کوئی بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے ایک پریس کانفریس کریں گے۔
قبل ازیں اتوار کو علی الصباح الشیخ عدنان کے اہل خانہ نےبتایا کہ انہیں عدنان کی ٹیلیفون کال موصول ہوئی تھی تاہم اس کی جگہ کاپتا نہیں چل سکا ہے۔ اس نے بتایا کہ اسے الرملہ جیل کی اسپتال سے رہا کردیا گیا ہے۔ یہ کال مقامی وقت کے مطابق سحری کے وقت تین بجے موصول ہوئی تھی۔ اس نے بتایا کہ وہ چھ بجے تک جنین میں عرابہ کے مقام پراپنے گھر پہنچ جائے گا۔
خضرعدنان کی رہائی کی خبر سننے کے لیے لوگ بے تاب تھے۔ رہائی کا سنتے ہی لوگ دیوانہ وار الشیخ عدنان کے گھر کی طرف چل پڑے۔
خیال رہے کہ الشیخ خضرعدنان کا تعلق مقبوضہ مغربی کنارے کے جنین شہر سے ہے۔ وہ اسلامی جہاد کے اہم رہ نما ہیں۔ انہیں اسرائیلی فوج نے ایک سال قبل بغیر کسی الزام کے حراست میں لیا اور انتظامی قید میں ڈال دیا گیا۔ ایک سال تک مسلسل انتظامی حراست کے بعد انہوں نے چھ مئی کو تادم رہائی بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ جو جون کے آخر تک جاری رہی۔ انیس جون کو اسلامی جہاد کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ الشیخ عدنان نے اسرائیلی حکام کی جانب سے 12 جولائی کو رہائی کی ضمانت پربھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
