اسرائیلی جیلوں میں قید دو اردنی شہریوں کی ہمشیرائوں نے اپنے بھائیوں اور دوسرے بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران سے حمایت کا اظہار کرنے کے لئے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے۔
فلسطینی سنٹر برائے مطالعہ اسیران کے ترجمان بھاء ضحغر نےبتایا ہے کہ اسیران منیر مراعی اور علاء حماد کی بہنیں اتوار کے روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان دونوں خواتین نے عمان میں اردنی شاہی عدالت کے دفتر کے باہر اپنی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ اردنی اسیران کے رشتہ دار دو مئی سے حکومت کے ان کے عزیزوں کی مدد کرنے میں دلچسپی نہ دکھانے پر احتجاج کررہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اردنی حکومت اسیران کے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔
ضحغر نے کہا ہے کہ اسیران کے رشتہ داروں نے ایک یادداشت پر دستخط کئے جس میں اردنی وزیر خارجہ ناصر جود سے ذمہ داریوں میں غفلت برتنے پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
اسیران کے خاندانوں کے مطابق جود نے بھوک ہڑتال شروع کرنے والے اسیران کے لئے ان کی اپیلوں کے باوجود ابھی تک کچھ نہیں کیا ہے۔ اور وہ ہی اردن کے خارجہ تعلقات کے ذمہ دار ہیں اور انہیں دیر کئے بغیر اسیران کی مدد کے لئے مداخلت کرنی چاہئیے ہے۔
اسیران کے خاندانوں نے اردنی سرکاری میڈیا پر بھی اس معاملے میں ایمانداری سے کام نہ لینے کا الزام لگایا ہے۔
ضحغر نے بتایا کہ اسیران کے خاندانوں نے شاہی عدالت کے دفتر کے باہر ایک دھرنا دیا ہے جس میں انہوں نے حکومتی عہدیداروں سے اپنے عزیزوں کے مطالبوں اور ان کی بھوک ہڑتال کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی۔
بشکریہ:متکز اطلاعات فلسطین
