اسرائیل میں فوج کی نگرانی میں پہلی مرتبہ سائبر حملوں کی روک تھام اور دشمن ملکوں کےخلاف سائبر اسپیس پر کارروائیوں کے لیے ایک آپریشنل سینٹر قائم کیا گیا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی اخبار اور فوج کے قریب سمجھے جانے والے روزنامہ یدیعوت احرونوت نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں شائع رپورٹ میں بتایا ہے کہ جنوبی فلسطین کے جزیرہ نما صحرائے نقب میں ایک سائنسی مرکز قائم کیا جا رہا ہے جسے’’سینٹر فار الیکٹرانک وار‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مرکز میں فوج کی زیرنگرانی دنیا بھر سے اسرائیل کےخلاف ہونے والے سائبرحملوں کی روک تھام اور دوسرے ملکوں کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جنگ کی نگرانی کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق سائبروار سینٹر کا ہیڈ کواٹ فلسطینی شہر بئرسبع میں ہوگا جس پر13 ملین ڈالرز کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیل میں پہلی بھی اسی طرح کا ایک مرکزصہیونی انٹیلی جنس اداروں کی نگرانی میں بھی قائم کیا جا چکا ہے۔ اس کا ہیڈ کواٹر بھی بئرسبع ہی میں واقع ہے، جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر کرائم کے ہزاروں ماہرین کو تعینات کیا جائے گا۔ یہ لوگ پوری دنیا میں ہونے والی سائبر کارروائیوں کو دیکھیں گے اور اسرائیل کےخلاف ایسی کارروائیوں کا دفاع کریں گے۔
خیال رہے کہ گذشتہ برس اسرائیل کو خلیجی ممالک کے ہیکرز کی جانب سے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ایک سعودی ہیکرنے اسرائیل کی انشورنس کمپنیوں اور بنکوں کے ہزاروں کریڈٹ کارڈز کا مواد چوری کرلیا تھا،جس کے بعد وزارت دفاع نے سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے آئی ٹی کے تین سو ماہرین پرمشتمل ایک گروپ تشکیل دیا تھا جن کے ذمہ سائبر حملوں کی روک تھام کی لگائی گئی تھی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
