• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

دنیا بدل سکتی ہے لیکن فلسطینیوں کے اصولی مطالبات ناقابل تغیر ہیں: الزھار

جمعرات 07-06-2012
in فلسطین
0
plf alzahar
0
SHARES
0
VIEWS

plf alzahar

فلسطین کی منظم مذہبی اور عسکری تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کے مرکزی رہ نماء ڈاکٹر محمود الزھار نے کہا ہے کہ دنیا کے اصول تبدیل ہوسکتے ہیں

لیکن فلسطینیوں کے اصولی مطالبات کسی صورت میں تبدیل نہیں ہوسکتے۔ ان کاکہنا ہے کہ جو لوگ فلسطینی مہاجرین کو کسی دوسرے ملک میں بسانے کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ غلط فہمی میں ہے۔ فلسطینی اپنی حق واپسی کے اصول اور مطالبے سے کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہوں گے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق حماس کے لیڈر ڈاکٹر محمود الزھارنے ان خیالات کا اظہار غزہ کی پٹی میں ’’خواتین اور قومی اصول و مطالبات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں کیا۔ سیمینار میں حماس کی خاتون رکن اسمبلی جمیلہ شنطی بھی موجود تھیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم کے باشندے وہ ویسے تو جس میں ملک میں چاہیں انہیںجانے کی آزادی ہے لیکن ان کا اصل وطن فلسطین ہی ہے۔ وہ کسی قیمت پر ارض وطن سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔ فلسطینیوں کو یہ حق دنیا کے کسی ملک نے نہیں دیا بلکہ یہ ان کا پیدائشی حق ہے اور پوری دنیا کے قوانین انہیں اپنا وطن آباد کرنے اور اس میں سکونت اختیار کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ پوری عرب اور اسلامی دنیا بھی فلسطینیوں کے اس بنیادی اور اساسی مطالبے پر یکجان ہے۔ فلسطینی چاہے دنیا کے جس ملک میں ہوں وہ اپنے وطن کی پنجہ یہود سے آزادی کے لیے جدو جہد جاری رکھیں گے۔
ڈاکٹر الزھار نے کہا کہ دنیا یہ کہتی ہے کہ فلسطینی اپنا وطن تبدیل کرلیں، لیکن فلسطینی یہ کہتے ہیں کہ جنہیں ہم پر مسلط کیا گیا ان کے لیے کسی جزیرے کا انتخاب کرلیا جائے فلسطینی اپنا وطن نہیں چھوڑ سکتے۔ پھر لوگ کہتے ہیں کہ اب اسرائیل کو قائم ہوئے کئی عشرے بیت گئے، ہم یہ جواب دیتے ہیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ کسی قوم یا فرد کا حق ساقط نہیں ہوتا۔ یہ کسی ایک فرد یا خاندان کے حق کا معاملہ نہیں بلکہ ایک کروڑ فلسطینیوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

حماس کے رہ نما نے کہا کہ جو لوگ اسرائیل کو سنہ 1967ء کی حدود پر واپس جانے کا مطالبے کرتے ہیں وہ بھی خاطی ہیں، کیونکہ وہ یہ کہہ کر اسرائیل کو اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ فلسطین چاہے جو ہے اور جتنا ہے اس پر فلسطینیوں کے علاوہ کسی دوسری قوم کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس موقع پر فلسطینی خاتون وزیر جمیلہ شنطی نے کہا کہ فلسطینی بیٹیوں پر وطن کی آزادی کے حوالے سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ جس طرح ہمارے بیٹے اور جوان دشمن کےخلاف لڑتے ہوئے اپنےوطن اور قبلہ اول کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ فلسطینی بیٹیوں اور ماؤں بہنوں کو بھی اپنی تمام اخلاقی، مذہبی اور قومی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائیلی جیلوںمیں سزائیں کاٹنے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں تمام فلسطینی خواتین کے لیے رول ماڈل قراردیا۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.