فلسطین کے ایک ممتاز سیاسی رہ نما اور دانشور پروفیسر عبدالستارقاسم نے کہا ہے کہ صہیونی دشمن سے مقابلے اور اپنے سلب شدہ حقوق کےحصول کے لیے فلسطینی عوام کو پیشہ ورانہ مزاحمت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے قلقیلیہ اور الخلیل میں دو یہودی فوجیوں کی ہلاکت فلسطینی مزاحمت کاروں کی انفرادی مزاحمت کا نتیجہ تھا، جسمیں کسی تنظیم نے حصہ نہیں لیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز دانشور ڈاکٹر عبدالستار قاسم کا کہنا تھا کہ جب قوم کی جانب سے تنظیموں کی سطح پر منظم مزاحمت ختم ہو جائے تو مایوسی جنم لیتی ہے اور اس مایوسی کے نتیجے میں لوگ انفرادی طور پر صہیونی دشمن سے انتقام پراتر آتے ہیں۔ اس کا مظاہرہ رواں ہفتے مغربی کنارے میں دو یہودی فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں دیکھا گیا۔ یہ دونوں فوجی فلسطینی مزاحمت کاروں کی انفرادی کارروائیوں میں مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی مزاحمتی تاریخ میں ایسی ان گنت مثالیں موجود ہیں۔
فلسطینی دانشور کا کہنا تھا کہ مزاحمتی تنظیموں کو پیشہ ورانہ انداز میں خود کو پالش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دشمن پر اسی وقت فتح پا سکتے ہیں جب ہماری مزاحمتی تربیت بھی باقاعدہ پیشہ ورانہ انداز میں کی جائے گی۔
ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کی جانب سے مسلح مزاحمت میں حصہ لینا ضروری ہے کیونکہ دشمن کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مسلح مزاحمت ایک موثر راستہ ہے۔ اس کےعلاوہ فلسطینی عوام کو پر امن احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہیے تاکہ فلسطینی مزاحمت کو اس سے مہمیز ملتی رہے۔
بشکریہؒمرکزاطلاعات فلسطین
