مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کی دائیں بازو کی ایک انتہا پسند سیاسی جماعت "اسرائیل بیتنا” کے رکن کنیسٹ الیکس میلر اور کئی دوسرے ارکان نے متفقہ طور پر الیکشن کمیشن کو درخواست بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عرب سیاسی رہ نما حنین الزعبی کے فلسطینی شدت پسند گروپوں کے ساتھ روابط ہیں، وہ اسرائیل کے خلاف دہشت گردی کی حمایت کرتی رہی ہیں اور اسرائیل کو بطور یہودی ریاست انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس لیے وہ آئندہ ماہ مارچ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اہل نہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن ان پر پابندی عاید کرے۔
الیکس میلر نے اس درخواست پر الیکوڈ اور شاش جیسی انتہا پسند سیاسی جماعتوں کے ارکان کے بھی دستخط حاصل کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ حنین الزعبی کی جماعت قومی جمہوری سماج پارٹی کے تمام ارکان کے انتخابی عمل میں حصہ لینے پر پابندی عاید کی جائے۔
خیال رہے کہ حنین الزعبی گذشتہ کچھ عرصے سے صہیونی میڈیا کے نشانے پر ہے۔ خاص طور پر گذشتہ برس مغربی کنارے میں تین یہودیوں کے اغواء کے بعد انہیں صہیونی سیاسی اور ابلاغی حلقوں کی جانب سے اس لیے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے یہودیوں کے اغواء کی ذمہ داری اسرائیل پر ہی عاید کی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
