آزاد ممبر پارلیمان ڈاکٹر جمال الخضری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام پر دبائو ڈالیں تاکہ وہ غزہ کی تمام کراسنگز کھول دے اور غزہ کا محاصرہ ختم ہوسکے۔
خضری نے تمام فلسطینی، عرب، اسلامی اور بین الاقوامی پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو سراہیں اور اس محاصرے کو اٹھانے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔
ممبر پارلیمان نے اتوار کے روز ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ محاصرے کو ختم کر کے تمام کمرشل کراسنگز کو کھول دیا جائے اور برآمدات اور درآمدات کی کھلی اجازت دی جائے اور اس پر اسرائیل کی جانب سے بین کی گئی اشیاء کی کسی لسٹ کو مسلط نہ کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ غزہ اور مغربی کنارے کے درمیان ایک محفوظ راستہ ہونا چاہئیے جو کہ ایک دوسرے کو آپس میں ملانے کا کام دے سکے اور بین الاقوامی ائیرپورٹ کی دوبارہ تعمیر کی جائے۔
خضری نے اسرائیلی حکام کو اس محاصرے کا پورا ذمہ دار قرار دیا کیوںکہ وہ کمرشل کراسنگز، غزہ سے افراد کی آمد و رفت کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں اور انہوں نے غزہ کے ساحل پر فلسطینی مچھیروں کے لئے مچھلیاں شکار کرنے کے لئے ایک حد مقرر کر رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام نے غیز قانونی پابندیاں لگا رکھی ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں اور تقریبا بیس لاکھ لوگوں کی زندگیوں کے تمام پہلووں پر برے اثرات مرتب کررہی ہیں۔
خضری نے کہا کہ اس محاصرے جس کو اب ساتواں سال جاری ہے، کے معیشت، صحت، تعلیم اور انسانی زندگی اور اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
