فلسطین کی منظم مذہبی اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد جماعت کے سیاسی شعبے کے رکن محمد نزال کی سربراہی میں قطر پہنچ گیا ہے۔
حماس کا یہ وفد تنظیم کے سیاسی شعبے کے صدر خالد مشعل کے کل اتوار کے دورہ اردن کی تیاریاں مکمل کرنے کے بعد دوحہ آیا ہے۔
خالد مشعل کل اتوار کو قطر کے ولی عہد شہزادہ تمیم بن محمد آل ثانی کےہمراہ عمان پہنچیں گے جہاں ان کے اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے رہ نما محمد نزال کے ہمراہ وفد کل جمعہ کو اردن سے دوحہ روانہ ہوا، جو اتوار کے روز قطری ولی عہد اورخالد مشعل کے ہمراہ دوبارہ اردن واپس ائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے رکن محمد نزال نے اردن میں خالد مشعل کی آمد سے قبل ان کے دورے کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور خالد مشعل کی حکومتی شخصیات کے ساتھ ملاقاتوں کا شیڈول بھی فائنل کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خالد مشعل کےدورہ اردن کے حوالے سے خود اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم بھی ذاتی طور پر دلچسپی رکھتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حماس کے سیاسی شعبے کے رہ نما خالد مشعل اتوارکو عمان کے مقامی وقت کے مطابق دن دس سے گیارہ بجےکے درمیان ایک خصوصی طیارے کے ذریعے قطر سے عمان پہنچیں گے جبکہ حماس کا ایک دوسراوفد دمشق سے اسی روز اردن آئے گا۔
خیال رہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت کی جلا وطن قیادت نے شام کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا تھا تاہم وہاں پر جاری بدامنی کے باعث یہ خبریں آر ہی ہیں کہ حماس اپنا دمشق کا دفتر کسی دوسرے عرب ملک منتقل کرنا چاہتی ہے۔ تاہم حماس نے فی الحال اس قسم کی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی، تاہم حماس کی قیادت کےاردن کے ساتھ رابطوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حماس اور اردن کے درمیان تعلقات کی بہتری میں قطر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

