مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ایک انٹرویو میں ڈاکٹر قاسم کا کہنا تھا کہ کسی بھی مخلوط قومی حکومت کےقیام کا مقصد فلسطینی قوم کے مفادات کا تحفظ ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے رامی الحمد اللہ کی حکومت ہو یا اب ام اعید کی نگرانی میں کوئی نئی حکومت تشکیل دی جائے یہ اس وقت تک قومی مفادات کا تحفظ نہیں کرسکتی جب تک کرپشن جیسے ناسور کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر قاسم نے کہا کہ صدر عباس نے ایک ایسے وقت میں قومی حکومت کو برطرف کیا ہے جب یورپی یونین حماس کے ساتھ رابطوں کے نئے باب کھول رہی ہے۔ ایسے میں محمود عباس نے حماس کو سیاسی طورپر بلیک میل کرنے اور اسرائیل کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے قومی حکومت کو چلتا کیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
