اسرائیل نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے قریبی ”حوض سلیمان” کے علاقے کو یہودیانے کی منصوبہ بندی کر لی، علاقے کو یہودی بستی میں شامل کرنے کی راہ ہموار کرنے کے لیے انتہاء پسند یہودیوں نے دھاوا بول کر حوض سلیمان پر تلمودی رسومات ادا کیں۔
شہر کے جنوب میں واقع الخضر ٹاؤن میں واقع اس حوض پر پچاس سے زائد صہیونیوں نے دھاوا بولا۔ ان عبادات کا مقصد
قومی مزاحمتی کمیٹیز کے ڈائریکٹر احمد صلاح نے خبر دار کیا ہے کہ جلیل القدر پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام سے منسوب اس حوض اور اس کے اطراف کو قریبی یہودی بستی ”افرات” میں شامل کرنے کی سازش شروع ہو گئی ہے۔ اسی سلسلے میں گزشتہ روز درجنوں آباد کاروں نے اس تاریخی مقام پر حملہ کیا اور یہاں پر خاص رسومات ادا کیں۔ تلمودی عبادات کی ادائیگی کا مقصد اس مقام کو یہودی مذہبی مقام قرار دے کر یہاں اپنا تسلط جمانا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
