حماس کے رہنما اسامہ حمدان کا کہنا ہے کہ فتح کے حماس پر عرب ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات لگانے کا عمل فتح کی جانب سے مسئلہ فلسطین کے خلاف کئے جانے والے جرائم کی پردہ پوشی کے لئے پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں کا حصہ ہیں۔
حمدان نے بتایا کہ فتح وہ جماعت ہے کہ” جس نے اردن، شام، لبنان اور کویت کے معاملات میں مداخلت کرکے فلسطینی لوگوں کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا تھا۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ تاریخ کے صفحات اور حقیقت کتنے معاملات میں فتح کی مداخلت کو چھپا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پارٹی جو کہ خطے کی موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے اور حماس پر مصری معاملات میں مداخلت کا الزام لگا رہی ہے، اپنے ایک جرم پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس نے مزاحمت کا راستہ، مسجد اقصیٰ کی آزادی اور فلسطینی عوام کے مقاصد کو پورا کرنے کا عہد کر لیا ہے اور اس کے ساتھ جڑی رہے گی۔
تحریک حماس نے پی ایل او کے گروہوں کی جانب سے تحریک پر مصر کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزامات کی مذمت کی ہے اور اس کوشش کو حماس، غزہ اور فلسطینی مزاحمت کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
اس بارے میں حماس کے ترجمان ڈاکٹر صلاح بردویل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عزام الاحمد کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایسے تمام جھوٹے الزامات ان تمام قومی اور اخلاقی اقدار کی نفی کرتے ہیں جن میں فلسطینی لوگ یقین رکھتے ہیں۔
پی ایل او کے گروہوں کے عہدیداران نے موتینی ریڈیو اسٹیشن سے بات کرتے ہوئے حماس پر الزامات کی بوچھاڑ کردی تھی اور رفح کراسنگ کی بندش کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
