فلسطینی صدر محمود عباس کا اسرائیلی ٹی وی کو انٹرویو میں فلسطینیوں کے حق واپسی سے علامتی انکار انہیں سخت مہنگا پڑا ہے۔ فلسطین کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پرتنقید کے بعد اب سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بک اور ٹیوٹرپر صدر محمود عباس کےخلاف تنقید اور مذمت کا ایک سیل رواں چل پڑا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پرتبصرہ کرتے ہوئے بیشتر شہریوں نے صدر محمود عباس کو قوم کا ’’خائن‘‘ قرار دیتے ہوئے ان سے صدارت کا عہدہ فوری چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ صدر عباس نے جمعہ کے روز اسرائیل کے ایک عبرانی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ مقبوضہ فلسطین کے شہرالصفد میں مجھے بچپن میں نکالا گیا تھا۔ میں اپنےآبائی شہر کو دوبارہ دیکھنا پسند کروں گا البتہ میں دوبارہ وہاں آباد نہیں ہونا چاہتا۔ میرے خیال میں اب وہ شہر اسرائیل کا حصہ ہےاور فلسطینی ریاست صرف مغربی کنارے اور غزکی پٹی پر مشتمل ہونی چاہیے۔ ان کے اس بیان پرفلسطین میں عوامی، سیاسی اور سماجی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین نے اپنی ایک رپورٹ میں سماجی میڈیا پرآنےوالے رد عمل پر روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں نے صدر محمود عباس کے بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا میں تنقید کرنے والوں میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔ فلسطین کے ایک ممتاز دانشور اور صحافی عبدالباری عطوان نے اپنے ٹویٹر کے صفحے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’صدر عباس اپنے آبائی شہرمیں واپسی کے حق سے دستبردار ہوچکے ہیں بھلا ان سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے دیگرحقوق کی حفاظت کرسکیں گے۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حق واپسی سے انکار کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ قوم کی نمائندگی کا جواز کھو چکے ہیں۔ عبدالباری عطوان نے صدر عباس کے بیان کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
