دنیا بھر کی طرح آج جمعۃ الوداع کو لبنان میں بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان کے مطابق یوم القدس منایا گیا۔لبنان میں یوم القدس کی سب سے خاص بات یہ رہی کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ غیر اعلانیہ طور پر یوم القدس کی ریلی میں عوام کے درمیان تشریف لے آئے جس پر لاکھوں کی تعداد میں موجود شرکائے القدس ریلی کے جوش و خروش مین مزید اضا فہ ہو گیا۔
القدس ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل سمیت امریکہ اور مغرب کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ خطے مین بحران پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور شام کے معاملہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر مغرب دوغلی حکمت عملی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔سید حسن نصر اللہ نے علی الاعلان کہا کہ حزب اللہ فلسطین کے مسئلے کو نہیں بھولے گی اور فلسطین کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی تک غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ نبرد آزما رہے گی اور القدس کو آزاد کروا کر ہی دم لے گی۔
سید حسن نصر اللہ نے انقلاب عظیم کے بانی اور عظیم رہنما آیت اللہ سید امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کو بھی خراج عقید پیش کیا کہ جنہوں نے ماہ رمضان المبار ک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا۔سید حسن نصر اللہ نے پوری دنیا کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ انقلاب اسلامی ایران کی آمد کے چند روز بعد ہی قدس کی آزاد ی کے لئے جمعۃ الوداع کو یوم القدس قرار دیا تھا تا کہ مسلم امہ قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی کے لئے جد وجہد کرے۔
سید حسن نصر اللہ کاکہنا تھا کہ پورا فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور کسی بادشاہ اور کسی حکمران کو یہ حق حاصل نہیں کہ فلسطین کے کسی بھی وسائل پانی ، آئل یا زمین کے ٹکڑے پر اپنا قبضہ جمانے کی کوشش کرے، انہوں نے کہا فلسطین نہر سے بحر تک فلسطینیوں کا ہے۔
حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ جب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسرائیل کو کینسر قرار دیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسرائیل واقعی ایک سرطان ہے جس کا کوئی علاج نہیں بلکہ اسرائیل کی نابودی ناگزیر ہے۔سید حسن نصر اللہ نے اسرائیل کو نہ صرف علاقے بلکہ پورے خطے اورپوری دنیا کے لئے ایک عظیم خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا وجود پوری دنیا کے لئے خطر ناک ہے تاہم اسرائیل کی نابودی نا گزیر ہے۔
