فلسطینی حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے ان چہ مگوئیوں کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے جن کے مطابق فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے تیونس میں قائم ہونے والی نہضہ پارٹی کی حکومت کو اپنے نئے دستور میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والوں کو سزا دینے کی شق شامل نہ کرنے کا کہا ہے۔
فلسطینی حکومت کے ترجمان طاہر نونو نے منگل کے روز ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا وزیر اعظم نے تیونس کے اپنے دورے کےدوران، اس سے قبل یا بعد، کسی بھی موقع پر تیونس کے آئین کے بارے میں کوئی تجویز دی ہے۔ تیونسی دستور مکمل طور پر تیونسی عوام اور اس کے نمائندوں نے تشکیل دینا ہے جس میں فلسطین کا کوئی عمل دخل نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فلسطینی حکومت نے تحریک نہضہ کے عہدیداران سے رابطہ کرکے انہیں بتایا ہے کہ فلسطینی وزیر اعظم یا فلسطینی حکومت نے اس ضمن میں کوئی بات نہیں کی ہے اور اس ضمن میں آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔
طاہر نونو نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی وزیر اعظم نے اس ضمن میں کوئی مداخلت کی اور نہ ہی انہوں نے تیونسی دستور میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے شق شامل نہ کرنے کی کوئی درخواست کی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
