
کراچی4 فروری ( )مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے 30مارچ کو ہونے والے گلوبل مارچ کی حمایت کرتے ہوئے کہا
ہے کہ مارچ فلسطین کی آزادی اور امت مسلمہ کی بیداری کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔فسلطین کا مسئلہ رنگ،زبان اور مذہب سے بالا ترہے۔مسجداقصیٰ اور گنبد خضریٰ کو اسرائیلی عزائم سے خطرہے۔فلسطین کا مسئلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتاہے۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایشین سولڈریٹی فارفلسطین کے تحت 9مارچ کو انڈیا سے شروع ہونے والے ’’یروشلم کی جانب گلوبل مارچ‘‘کے سلسلے میں جماعت اسلامی اور فلسطین فاؤنڈیشن کے تحت ادارہ نورحق میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔سیمینار کی صدارت جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کی ۔کانفرنس میں گلوبل مارچ کے سلسلے میں انڈونیشیا ‘ایران ‘جاپان ‘بنگلہ دیش ‘فلسطین ‘انڈیا اور دیگر ایشیائی ممالک سے آئے ہوئے مہمانوں نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں جماعت اسلامی کراچی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری مسلم پرویزنے قرار داد بھی پیش کی،کانفرنس سے انڈیا کے فیروز مٹھی بور والا‘فلسطین کے ڈاکٹر محمد ‘انڈونیشیا کے محمد معروف‘ایران کے سلیم غفوری ‘جاپان کے سیکنگ ساما گوچی‘موتمر عالم اسلامی کے میر نواز خان مروت ‘فلسطین فاؤنڈیشن کے مظفر احمد ہاشمی ‘قاضی احمد نورانی ‘صابر کربلائی ‘اقلیتی رہنما جے سالک ‘این پی پی کے سید ضیاء عباس‘مرکزی جمعیت اہل حدیث کے علامہ افضل سردار ‘عوامی مسلم لیگ کے محفوظ یار خان ‘بیرسٹر ثمین خان‘جماعت الدعوۃ کے انجینئر نوید قمر ‘مسلم لیگ (ن)کے غلام مصطفیٰ ایڈووکیٹ‘ مسلم رابطہ کونسل کے نصرت مرزا ‘جمعیت علمائے پاکستان کے محمد حلیم غوری‘جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر برجیس احمد و دیگر نے خطاب کیا۔محمد حسین محنتی نے کہاکہ امریکا برطانیہ اور روس نے مل کر اسرائیل کو مسلط کیاہے ‘ دنیا میں آج بھی سب سے زیادہ یہودی امریکا میں رہتے ہیں اس کے باوجود اسرائیلی ریاست عرب میں قائم کی گئی ۔ اسرائیل نے دنیا کے تمام قسم کے مظالم فلسطینیوں پر ڈھائے اور ظلم و ستم کی نئی تاریخ قائم کی ‘ یہ دنیا کی تاریخ کا تاریک پہلو ہے ۔ انہوں نے کہاکہ فلسطینیوں نے پتھروں سے اسرائیل کا مقابلہ کرکے مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یروشلم انبیائے کرام کی سر زمین ہے تمام بڑے پیغمبر وہاں آئے مگر بد قسمتی سے یہ مقدس زمین اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یروشلم کو اسرائیل کے قبضے سے نکالنے کیلئے یروشلم کی جانب گلوبل مارچ امید کی کرن ہے ۔انہوں نے کہاکہ گلوبل مارچ کے ذریعے پوری دنیا میں بیداری کا عمل شروع ہوگا اور ایسا تحرک پیدا ہوگا جسے امریکا اور اسرائیل سمیت کوئی نہیں دبا سکے گا ۔گلوبل مارچ یروشلم کی آزادی تک چلتا رہے گا۔ نہتے فلسطین کو محصور کر کے انہیں خوراک سے بھی محروم کردیا گیا ہے ‘مگر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کو رنگ نسل اورجغرافیہ سے بالاتر ہوکر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے ۔صابر کربلائی نے کہا کہ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان نے 2008ء کو اپنے سفر کاآغاز کیا جب غزہ پر اسرائیل نے حملہ کیا اور حماس نے اسرائیل کو شکست سے دوچار کیا تھا اس تناظر میں پاکستان کے عوام کوبیدار کرنے کیلئے ہم نے فلسطین فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی۔ڈاکٹر محمد نے کہاکہ پاکستان کی ہر حکومت اور سیاسی جماعتیں فلسطین کے مسئلے کو اہمیت دیتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تاریخ گاہ ہے کہ مزاحمت کرنے والوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے ، اسرائیل کہتا تھا کہ ہماری فوجوں کو آج تک کسی نے شکست نہیں دی مگر حماس کے مجاہدوں نے غزہ میں اسرائیل کے غرور کو خاک میں ملاد یا ۔ پوری دنیا نے دیکھا ہے کہ مسلح اسرائیلی فوجیوں کا نہتے فلسطینی بچے پتھروں سے مقابلہ کرتے ہیں۔ فیروز مٹھی بور والا نے کہاکہ اسرائیل ‘ امریکا اور مغرب ایک اتحاد کانام ہے ‘ 1991 ء سے ایک نئی استعماریت کا آغاز ہوا ہے ،جس کی قیادت امریکا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور انہیں دہشتگرد ثابت کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ رنگ زبان اورنسل سے بالاتر ہے ۔ فلسطین کی صورتحال انسانی المیہ ہے ‘ اسرائیلی ایجنڈا یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امن قائم نہ ہو ۔مسجد اقصی اورگنبد خضریٰ کو اسرائیل سے خطرات لاحق ہیں ۔محمد معروف نے کہاکہ اسرائیل صہیونیت اور سرمایہ دارانہ نظام کیلئے انڈسٹری کا درجہ رکھتا ہے۔ اسرائیل کا وجود دنیا کیلئے سرطان کی مانند ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انڈونیشیا ساڑھے تین سو سال غلام رہا ‘ فلسطین کی آزادی بھی دور نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم پوری دنیا سے اس لئے متحد ہوئے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کو اجاگر کریں اور اتحاد کاپیغام دیں۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح عرب ممالک کے عوام بیدار ہوئے ہیں اسی طرح ہم ایشیا کو بیدار کرنے نکلے ہیں ۔سیلنگ ساما گوچی نے کہاکہ فلسطین کے مسئلے پر ایشیائی ممالک کا اکٹھا ہونا خوش آئند ہے ‘ ہم فلسطین کے مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں۔۔ فلسطین کامسئلہ کسی رنگ زبان اور نسل کا مسئلہ نہیں یہ انسانی مسئلہ ہے ۔سلیم غفوری نے کہاکہ گلوبل مارچ ان لوگوں کا مارچ ہے جو انسانیت کے جذبے پر یقین رکھتے ہیں اس مارچ میں ایشیاء کے تمام ممالک شامل ہوں گے تاکہ یہاں کے عوام کو اس اہم مسئلے پر بیدار کیا جاسکے۔جے سالک نے کہاکہ میرے لئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ میں فلسطین کی آزادی کیلئے کام کرنے والوں کے ساتھ ہوں ‘ جب تک مظلوموں کو حق نہیں دیا جائے گا دنیا میں امن قائم نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتاہے۔ اقوام متحدہ بے بس ہے یہ بذات خود آزاد نہیں ہے ‘ اقوام متحدہ کی کارکردگی صفر ہے ۔ میر نواز مروت خان نے کہاکہ صہیونی عزائم پوری دنیا کیلئے خطرہ ہیں ‘ اسرائیل نے صبیرہ اورشاترہ میں جس درندگی کا مظاہرہ کیا دنیا نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی آج بھی مغرب دوہرے معیار پر قائم ہے ۔ اقوام متحدہ نے بھی مجرمانہ کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہاکہ اسرائیل غزہ کا محاصرہ کر کے انسانی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے ۔نہتے فلسطینیوں کومحصور کرکے انہیں خوراک سے بھی محروم کردیا گیا ہے مگر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کو رنگ نسل اور جغرافیہ سے بالاتر ہوکر مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے ۔ بیرسٹر ثمین خان نے کہاکہ گلوبل مارچ کا انعقاد خوش آئند ہے،ہم اس مارچ کی حمایت کرتے ہیں۔فلسطین کے مسئلے پر عالمی برادری نے دوہرے معیارکا ثبوت دیا ہے۔سید ضیاء عباس نے کہاکہ فاؤنڈیشن نے یروشلم کی طرف مارچ کا جو پیغام دیا ہے وہ وقت کاتقاضا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب سے پاکستان قائم ہوا ہے تب سے آج تک ہم نے ہمیشہ فلسطین کاز کی حمایت کی ہے ۔ فلسطینی اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں پوری دنیا ان کے ساتھ ہیں۔علامہ افضل سردار نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ عالم انسانیت کا مسئلہ ہے ‘ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اسرائیل کے مظالم کیوں نظر نہیں آتے؟۔ انجینئر نوید قمر نے کہاکہ گلوبل مارچ مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے میں مدد گار ثابت ہوگا۔محفوظ یار خان نے کہاکہ ہم فلسطین کاز کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔محمد غلام مصطفی ایڈووکیٹ نے کہاکہ فلسطین فاؤنڈیشن کے کاز میں مسلم لیگ کا ایک ایک کارکن شامل ہوگا۔نصرت مرزا نے کہاکہ فلسطین کا مسئلہ ہم سب کا مسئلہ ہے ‘ 1.2 بلین بیرل تیل غزہ میں موجود ہے ‘ اسرائیل فلسطینیوں کے معدنی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ۔محمد حلیم غوری نے کہاکہ بحیثیت مسلمان فلسطین کی آزادی کی جدوجہد ہماری ذمہ داری ہے۔مظفر احمد ہاشمی نے کہاکہ ہم گلوبل مارچ کی حمایت کرتے ہیں‘ ہم نے فلسطین کاز کیلئے ہمیشہ آواز بلند کی ہے اور اب بھی کرتے رہیں گے۔
