فلسطینی وزارت داخلہ کے ترجمان اسلام شھوان کا کہنا ہے کہ غزہ میں سرگرم فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے اسرائیل کے اندر گہری رسائی حاصل کر لی ہے اور مزاحمت کاروں کے راکٹ اب اسرائیل کے وسطی شہر تل ابیب تک پہچنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تل ابیب میں بسنے والے 25 لاکھ یہودی آباد کار اب فلسطینی مجاہدین کے نشانے پر آ کر خطرے میں پڑ گئے ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ’’فیس بک‘‘ پر جمعرات کے روز اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ فلسطینیوں کے راکٹوں کی رینج میں آنے کے بعد تل ابیب کے پچیس لاکھ یہودی شدید خطرے میں آ پڑے ہیں۔ فلسطینی مجاہدین کے راکٹوں کی تل ابیب تک رسائی سے اسرائیل کی معیشت پر گہرے منفی اثرات پڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب کے فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹوں کے نشانے پر آنے سے اب اہل غزہ سے زیادہ اسرائیل امن قائم رکھنے کا محتاج ہو گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل ایک بند گلی میں آ گیا ہے جہاں پر وہ فلسطینیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی کی حماقت سے قبل سو بار سوچے گا۔
دوسری جانب جمعرات کے روز بھی غزہ کی فضاؤں میں اسرائیلی جنگی طیارے پرواز کرتے رہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
