غزہ کی اسلامک یونیورسٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین اور رکن پارلیمان جمال خضری کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں اسرائیلی آٹھ روزہ بمباری میں زخمی ہونے والے چار سو فلسطینیوں کے لیے ترکی کے تعلیمی پروگرام کا آغاز ہو گیا ہے۔
جمال الخضری نے بتایا کہ اس پروجیکٹ میں کام کرنے والے افراد مختلف اداروں میں کام کر رہے ہیں، ان سب نے اس ترکی کے اس خاص پروگرام میں شرکت کی حامی بھر لی ہے۔
جمال الخضری نے اس موقع پر ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب ایردوا ن کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیااور غزہ میں تعلیم ، صحت اور انفرسٹرکچر کے شعبوں میں ترکی کے خصوصی تعاون کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے فلسطینیوں کی بے لوث مدد کرکے ان کی پریشانیوں کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
انہو ں نے بتایا کہ ترکی کی جانب سے سپانسر کیے گئے اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں مختلف اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کے لیے مختلف ڈپلومہ کورسز کا اجراء کیا گیا ہے۔ ان کورسز میں سول سوسائٹی کے اداروں کے انتظام کا ڈپلومہ، بینکنگ اینڈ فنانس ڈپلومہ، نفسیاتی مدد اور مشاورت کا ڈپلومہ، کمپیوٹر ، موبائل اور دیگر سمارٹ ڈیوائسز کے استعمال اور مرمت کے ڈپلومے، کری ایٹو ڈیزائنگ ، سسکو نیٹ ورکنگ اور دیگر فنون کے ڈپلومے شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
