(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیل میں قید سرکردہ فلسطینی سیاست دان اور تحریک فتح کے سیںٹرل کونسل کے سینیر رکن مروان البرغوثی نے اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ اور اپنی جماعت فتح پر قومی مفاہمت کے لیے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا۔
روان البرغوثی نے اسرائیلی جیل سے دیے گئے خصوصی انٹرویو میں 10 نکامی قومی مفاہمتی فارمولہ بھی پیش کیا ہے جس میں تمام فلسطینی دھڑوں بالخصوص فتح اور حماس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قومی مفاد اور قومی یکجہتی کے لیے مضبوط تزویراتی حکمت عملی اختیار کریں۔انٹرویو میں مروان البرغوثی نے فلسطین کی موجودہ صورت حال پراپنا جامع انداز میں تجزیہ پیش کیا ہے اوراہم قومی مسائل اور ان کے حل کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی ہیں۔
قومی مفاہمت کے لیے دس نکاتی فارمولے میں انہوں نے حماس اور فتح کے درمیان قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے پر سب سے زیادہ زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس اور فتح مل کر ملک میں قومی حکومت قائم کریں اور سیاسی شراکت کے ساتھ آگے چلیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فلسطین میں جاری حالیہ تحریک انتفاضہ کو پوری فلسطینی قومی قیادت کی رہنمائی اور مالی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ اس تحریک کو نتیجہ خیز بنایا جاسکے۔
فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی تعاون پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون نہیں بلکہ دشمن کے خلاف مزاحمت کرسکتی ہے۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں کہ ایک طرف تو مزاحمت جاری ہو اور دوسری طرف دشمن کے ساتھ اپنے قوم کے خلاف تعاون بھی جاری ہو۔
فلسطینی اتھارٹی کی صدارت کے نامزدگی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں مروان البرغوثی نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ فلسطینی قوم کا مجھ پر اعتماد کا اظہار ہوگا اور میری طرف سے اپنی قوم کو وفاداری کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
