اسرائیلی حکومت نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے جنوب میں قائم 14 یہودی کالونیوں "گوش عتصیون” کو یہودی ریاست میں شامل کرنے کے لئے ایک خفیہ منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں یہ علاقہ اسرائیل کا حصہ قرار پائے گا۔
اسرائیل کے عبرانی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں خفیہ طور پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے ذمہ گوش عتصیون کو باضابطہ طور پر اسرائیل کا حصہ قرار دینے کے امکانات اور اس کے فوائد کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ خیال رہے کہ "گوش عتصیون” میں کم سے کم چودہ یہودی کالونیاں موجود ہیں۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزیر اقتصادیات "نفتالی بینیٹ” نے بتایا کہ حال ہی میں کابینہ کے اجلاس میں "گوش عتصیون” یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی جس پر طویل بحث کے بعد ایک کمیٹی تشکی دی گئی ہے جو اس کے امکانات کا جائزہ لے کر رپورٹ حکومت کو فراہم کرے گی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی کابینہ میں شامل وزراء کی اکثریت نے مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کا متعدد مرتبہ مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی غیرقانونی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سازش کے پس پردہ اس علاقے کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے۔
ٹی وی رپورٹ کے مطابق کابینہ نے ایک دوسری کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو فلسطین کی مخلوط قومی حکومت کے ساتھ مستقبل میں اقتصادی اور سیکیورٹی تعلقات کے امکانات جائزہ لے گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
