اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مشرقی القدس کی اسلامی اور فلسطینی شناخت کو مسخ کرکے اس یہودی رنگ میں رنگنے کا ہمہ جہت منصوبہ شروع کر رکھا ہے۔ فلسطینیوں کی اس بابرکت شہر سے بے دخلی بھی اسی پروگرام کا حصہ ہے۔ اسی ضمن میں شہر کے شمال مغربی ٹاتن بیرنبالا کے مقابل بیت حنینا کی اراضی پر قیام پذیر عرب بدو خاندانوں کو علاقہ چھوڑنے کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے 53 افراد پر مشتمل آٹھ خاندانوں کو علاقے سے ہجرت کر جانے کا کہا گیا ہے۔ جس کے بعد ان خاندانوں نے علی الصبح سے ہی احتجاجی دھرنا دیدیا ہے۔
القدس کی بدو کونسل کے سربراہ سالم ابو داھوک نے اخبارات میں شائع اپنے ایک بیان میں کہا کہ کعابنہ خاندان اس علاقے میں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ اس وقت جب بیر نبالا کی اراضی پر یہودی انڈسٹریل ایریا ”عطاروت” تعمیر کیا گیا یہ خاندان یہیں آباد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں نسلی امتیاز کی مظہر اسرائیلی دیوار اور دیگر یہودیوں کی توسیع کے سبب پہلے ہی اس قبیلےکے مختلف خاندانوں کا آپس میں تعلق منقطع ہو چکا ہے، تازہ اسرائیلی احکامات نے ایک بار پر اس خاندان پر قیامت توڑ دی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
