فلسطین میں انتہا پسند یہودیوں کی شرانگیزی سے نہ صرف مسلمانوں کے مقدس مذہبی مقامات غیرمحفوظ ہیں بلکہ مسیحی برادری کی عبادت گاہیں بھی بدستورغیرمحفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق بیت المقدس میں مسیحی برادری کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہودی آباد کاروں نے بیت المقدس میں ان کے مرکزی چرچ پرایک ماہ میں دوسری مرتبہ حملہ کیا ہے۔ مسیحی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز انتہا پسند یہودیوں کے ایک ڈنڈہ بردار گروپ نے پہلے چرچ کی دیواروں پرتوہین آمیز عبارات کی چاکنگ کی، بعد ازاں اس پر پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں چرچ کے شیشے ٹوٹ گئے۔
مسیحی رہ نماؤں کا کہنا ہے کہ نامعلوم انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے بیت المقدس میں ’’شیفتی یسرائیل‘‘ روڈ پر واقع کھیتولک چرچ پرحملے میں چرچ کا مرکزی دروازہ بھی ٹوٹ گیا، اس کے علاوہ چرچ کی دیواروں اور اس کی بیرونی کھڑکیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ادھر صہیونی پولیس نے بیت المقدس میں چرچ پرانتہا پسند یہودیوں کے حملے کی تصدیق کی ہے، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہودیوں نے چرچ پراس وقت پتھراؤ کیا جب ان کی مقامی فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں، تاہم ان جھڑپوں میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ بیت المقدس میں مسیحی برادری کے چرچ پرانتہا پسند یہودیوں کا یہ ایک ماہ میں دوسرا حملہ تھا۔ اس سے قبل بھی یہودی آباد کاروں نے چرچ کی دیواروں پرعبرانی میں نازیبا الفاظ پرمشتمل چاکنگ کی تھی اور چرچ پر پتھراؤ کیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
