اسرائیل کی ایک ضلعی عدالت نے مقبوضہ بیت المقدس میں سال ہا سال سے مقیم ایک فلسطینی خاندان کو مکان خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے مبینہ طورپر غیرقانونی رہائش اختیار کرنے کے الزام میں خاندان کے سربراہ کو ساٹھ ہزارشیکل جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا میں آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے روز بیت المقدس کی ایک ضلعی عدالت نے” کریم صیام” نامی فلسطینی شہری کو بیت المقدس کے شیخ جراح کے مقام پر موجود مکان کو خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے کریم صیام اور اس کے اہل خانہ کو مکان خالی کرنے اور جرمانہ ادا کرنے کے لیے دس دن کی مہلت دی ہے اور مکان خالی نہ کرنے کی صورت میں یکم اگست کوصہیونی فوج کے ذریعے مکان خالی کرانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی عدالت کا کہنا ہےکہ کریم صیام نے شیخ جراح میں ام ہارون کالونی میں "متروک املاک” کے ضمن میں آنے والے ایک مکان پرقبضہ کیا ہوا ہے۔ یہ مکان فلسطین چھوڑ کرجانے والے لوگوں کی املاک کی نگرانی پرمامور ایک سیکیورٹی اہلکار کے استعمال میں تھا، جس پر فلسطینی شہری نے قبضہ کرلیا تھا۔ عدالت اس مکان کو اس کے مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیتی ہے۔
ادھر فلسطینی شہری کریم صیام کا کہنا ہے کہ اسے اسرائیلی عدالت کا ایک حکم نامہ وکیل کے ذریعے ملا ہے، جس میں یکم اگست تک مکان خالی کرنے اور ساٹھ ہزار شیکل جرمانہ ادا کرنے کا کہا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ غیرقانونی رہائش رکھنے کے جرم میں 20ہزار شیکل عدالت کو ادا کیے جائیں جبکہ 40 ہزار شیکل اس مکان کے مالک کو کرائے کے طورپر ادا کیے جائیں۔
صیام کا کہنا ہے کہ اس نے 1970 کے عشرے میں اس مکان میں اس وقت رہائش اختیار کی تھی جب اس مکان کے اصل مالک نے اسے یہاں رہنے اورمکان کو کرائے پرکسی تیسرے فریق کو دینے کی اجازت دی تھی۔ بعد میں صام نے مالک مکان سے یہ مکان خرید لیا۔ سابق مالک کے فوت ہونے کے بعد ایک یہودی آباد کار نے اس کی ملکیت کا دعویٰ کیا۔ اسرائیلی عدالت میں اس کا مقدمہ چل رہا تھا جس کا اچانک فیصلہ آنے پر فلسطینی خاندان کو سخت اذیت سےدوچار کیا ہے۔
کریم صیام کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ "سیاسی” ہے اور اس کا مقصد یہودی آباد کاروں کو سہولت فراہم کرنا اور مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور فلسطینیوں کے لیے عرصہ حیات تنگ کرکےانہیں وہاں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
