بیت المقدس کے مشہور مذہبی رہنمائوں نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصٰی کو قابض اسرائیلی حکام تقسیم کرنے کی کوشش کررہی ہیں تاکہ یہودی آبادکار بھی مسجد کی جگہ پر اپنا معبد تعمیر کرسکیں۔
یہ بات منگل کے روز ایک نیوز کانفرنس کے دوران سامنے آئی جب بیت المقدس کی اعلیٰ اسلامی کونسل نے مسجد اقصٰی کے الاسباط دروازے کے باہر مسجد اقصٰی کو درپیش خطرات کے بارے میں صحافیوں کو آگاہ کیا۔
بیت المقدس میں اسلامی اوقاف بورڈ کے سربراہ شیخ عبدالعظیم سلھب نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ،” قابض اسرائیل نے آج مسجد اقصٰی میں یہودی آبادکاروں کے ایک بڑے گروہ کو دھاوا بول دینے کی اجازت دے دی حالانکہ اس سے پہلے اسرئیلی فوج کئی بار مسلمان نمازیوں کو مسجد میں آنے سے روک چکی ہے۔”
شیخ عبدالعظیم کا کہنا تھا کہ،” ہم اسلامی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسجد اقصٰی کی حفاظت کے لئے فوری طور پر مداخلت کریں اور ہم اردن کے حکمران ہاشمی خاندان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسجد اقصٰی کے محافظوں کی تعداد میں اضافہ کردیں۔”
اس موقع پر شیخ عکرمہ صبری نے بھی اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینی نمازیوں اور اوقاف کے ملازمین کو مسجد میں داخلے سے روکنے کی مذمت کی۔
شیخ صبری نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصٰی میں کارروائیوں کو غیر قانونی قرار دیا اور اور اسرائیلی حکام کو ان کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہونیوالی صورتحال کا پورا پورا ذمہ دار قرار دیا۔
بیت المقدس اور فلسطین کے مفتی اعظم شیخ محمد حسین کا کہنا تھا کہ یہودیوں کی جانب سے مسجد اقصٰی کو تقسیم کرنے کی کوششیں عارضی ہیں۔ شیخ حسین کا کہنا تھا کہ،” انتہاپسند یہودی مسجد اقصٰی میں تقسیم اور اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں مگر ہم ان چیزوں کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔”
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
