مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیل مسجدا قصیٰ کے قریب واقع ’’التنکزیہ‘‘ درسگاہ کی جگہ پر’قدس نور‘ نامی ایک یہودی معبد کے قیام کی سازش تیار کرر ہا ہے۔ یہ سازش صرف اس تاریخی دینی درسگاہ ہی کے خلاف نہیں بلکہ بیت المقدس کی اسلامی تاریخ اور ثقافت کو تباہ کرنے کی گھنائونی سازش ہے۔
الشیخ صبری نے خبردار کیا کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کے قریب التنکزیہ درسگاہ کو یہودی معبد میں تبدیل کرنے کی سازشوں سے باز رہے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے انہوں نے بتایا کہ ممالیک کے دور مسجد اقصیٰ کے مغربی حصے میں تعمیر کی گئی قدیم درسگاہ ’’مدرسہ التنکزیہ‘‘ کی تعمیر سنہ 1340 ء میں تکمیل کی گئی تھی۔ یہاں پر ایک مسجد کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یتیم بچوں کی تعلیم کےلیے ایک ادارہ بنایا گیا تھا۔ یہ جگہ آج بھی دینی تعلیم کے لیے وقف ہے جبکہ اسرائیل اسے یہودی معبد میں تبدیل کرنے کی سازش کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلی صدی میں اس دینی درسگاہ کی بالائی منزل مفتی اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی کا دفتر تھا۔ اس کے بعد طویل عرصے تک یہ عمارت فلسطین کی شرعی عدالت کے طورپر بھی استعمال کی جاتی رہی ہے۔ سنہ 1969 ء میں صہیونی فوج نے اس جگہ پرقبضہ کرکے اسے بھی یہودیت میں تبدیل کرنے کی سازش کی تھی۔ تک ان سازشوں پرعمل درآمد جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدرسہ التنکزیہ پرصہیونی ریاست یا قابض فوج کا کنٹرول کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ اسرائیل ایسی مذموم حرکتوں سے باز رہے جن کے نتیجے میں قبلہ اول کے اسلامی اور ثقافتی تشخص کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
