(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال مشرقی علاقے العیسویہ میں ایک فلسطینی شہری کو اپنا ہی گھر منہدم کرنے پر مجبور کر دیا۔
القدس گورنری کے مطابق قابض حکام نے محمد عودہ نامی شہری کو بغیر اجازت کے تعمیر کا بہانہ بنا کر اس کا گھر زبردستی منہدم کرنے پر مجبور کیا۔
قابض سفاک اسرائیلی فوجی خاص طور پر مقبوضہ بیت المقدس کے شہریوں کو تعمیراتی اجازت نامہ نہ ہونے کا بہانہ بنا کر ان کے گھر خود ہی منہدم کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ جو شہری اس حکم سے انکار کرتا ہے قابض فوج کے بلڈوزر اس کے گھر کو مسمار کر دیتے ہیں اور پھر مالک پر بھاری جرمانے اور اخراجات بھی عائد کر دیے جاتے ہیں۔
القدس میں قابض بلدیہ فلسطینیوں کو تعمیراتی اجازت نامے جاری کرنے سے گریز کرتی ہے اور ان کے گھروں کو یا تو خود منہدم کر دیتی ہے یا انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور ان انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہے جو رہائش کے حق کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ قابض اسرائیل کی اس منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو القدس شہر سے جبری طور پر بے دخل کرنا ہے تاکہ شہر اور اس کے گردونواح میں اپنی صہیونی بستیوں کو مزید وسعت دی جا سکے۔