اسرائیلی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس میں سلوان کے مقام پر فلسطینی شہریوں کے کئی مکانات کو غیرقانونی قرار دے کرانہیں فوری طور پر گرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی پولیس اور فوج کی فول پروف سیکیورٹی میں اتوار کے روز شہر کی صہیونی بلدیہ کے اہلکاروں نے مسجد اقصیٰ کے جنوب میں واقع سلوان کالونی کا دورہ کیا اور وہاں پر موجود فلسطینی شہریوں کو مکانات مسماری کے نوٹس حوالے کیے۔اطلاعات کے مطابق صہیونی حکام کی جانب سے دیے گئے مسماری نوٹسز میں تین دکانیں، وادی الحلوہ میں ایک کھیل کا میدان اور چار رہائشی فلیٹس شامل ہیں۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کا عمل کئی سال سے جاری رکھا ہوا ہے۔ اس ضمن میں وادی حلوہ کالونی، عین الوزہ، بئیر ایوب، وادی یاصول اور سلوان کالونی سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔
ادھر وادی حلوہ۔ سلوان مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق صہیونی فوج نے مقامی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ وادی حلوہ کالونی میں نو سو مربع میٹرپر مشتمل کھیل کے میدان کو استعمال نہ کریں کیونکہ اسے اب یہودیوں کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
