ترکی کی حکومت نے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے 77 نئے مکانات کی تعمیر کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے یہودی آباد کاری کو بین الاقوامی قوانین کے ساتھ سنگین مذاق قرار دیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کو بسانی کی غرض سے 77 نئے مکانات تعمیر کرنے اسرائیلی منصوبے کی شدید مذمت کی اور اسے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قراردیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیل کی غیرقانونی آباد کاری اب کسی قیمت پرقبول نہیں ہے۔ صہیونی ریاست کی جانب سےغیرقانونی طورپر یہودی توسیع پسندی کا سلسلہ جاری رکھ کر مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کو ناممکن بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی بستیوں کی تعمیر سے صہیونی ریاست کے قیام امن کے دعوے جھوٹ ثابت ہو رہے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’’نائو پیس‘‘ نے بتایا ہے کہ صہیونی وزارت برائے ہائوسنگ نے مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کے لیے 77 مکانات کی تعمیر کے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم نے مکانات کی تعمیر کے اعلان کی مذمت کی ہے اور اسے متنازعہ تعمیرات قرار دے کرانہیں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے مشرقی بیت المقدس میں واقع ’’النبی یعقوب‘‘ کالونی میں 36 اور ’’بسغات زئیو‘‘ میں 41 مکانات کی تعمیر کے لیے ٹینڈر طلب کیے ہیں۔ یہ دونوں یہودی کالونیاں مشرقی بیت المقدس میں واقع ہیں۔
یہودی گروپ کا کہنا ہے کہ مشرقی بیت المقدس میں مکانات کی تعمیر کے اعلان سے واضح ہو رہا ہے کہ بنجمن نیتن یاھو نئی حکومت کی تشکیل کے بعد بھی غیرقانونی یہودی آباد کاری سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔
انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت کو خطے میں دیرپا قیام امن کے لیے یہودی بستیوں کی تعمیر کا عمل روکنا ہوگا۔ اگر نیتن یاھو کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہا توامن کا ایک اور موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
