فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں مسیحی برادری کے ایک مرکزی چرچ پر انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے حملہ کر کے اس کی توڑ پھوڑ اور بے حرمتی کی ہے جس کے خلاف فلسطین بھر میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق منگل کے روز قدیم بیت المقدس میں "رفات” نامی عیسائی چرچ پر "قیمت چکاؤ” نامی شدت پسند یہودی گروپوں نے حملہ کر کے اس کی توڑ پھوڑ کی اور اس کے اندرونی اور بیرونی دیواروں پر جلیل القدر پیغمر حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم علیماالسلام کی شان میں توہین آزمیز نعرے بھی تحریر کر ڈالے۔ "رفات” چرچ بیت المقدس میں لاطینی پیٹرک عیسائیوں کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔
ادھر فلسطین میں مسلمان اور مسیحی برادری کی جانب سے چرچ پر حملے کے اشتعال انگیز واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سے جاری ایک بیان میں چرچ پر حملے کو شرمناک اور نہایت بزدلانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں فلسطین کے کسی بھی شہر میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کے مقدس مذہبی مقامات محفوظ نہیں ہیں۔ اس نوعیت کی بزدلانہ کارروائیوں اور ظلم و تعدی میں اسرائیلی ریاست خود ملوث ہے جو انتہا پسندوں کو اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات کی حوصلہ افزائی کررہی ہے۔
درایں اثناء بیت المقدس میں فلسطینی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ یہودی آباد کاروں کا ایک گروپ دوبارہ ان کی گاڑیوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے سرگرم عمل ہو چکا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند یہودی آباد کاروں نے ان کی گھروں کے باہر کھڑی گاڑیوں کے ٹائر پنکچر کرنے کو معمول بنا لیا ہے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کی مختلف دیواروں پر امریکا کے خلاف بھی عبرانی میں نعروں کی چاکنگ دیکھی گئی ہے۔ وال چاکنگ میں امریکا کو جرمن نازیوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ ان دنوں امریکا فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان مفاہمتی امن سمجھوتے کے لیے کوشاں ہے لیکن اسرائیل کےانتہا پسند گروپوں کو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ کسی صورت میں گوارا نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
