مصر کی سب سے بڑی علمی درسگاہ جامعہ الازھر سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی صرف خطے کے امن کے لیے ناگزیر نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کے استحکام کا اہم مقام اور باب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عرب بہاریہ نے صہیونیوں کواپنی ریشہ دوانیوں کو آگے بڑھانے میں سخت مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ بیت المقدس کی آزادی ہی عالمی برادری کے استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شیخ الازھرنے ان خیالات کا اظہار قاہرہ میں بدھ کے روز ہونے والی عالمی نصرت القدس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کا تحفظ صہیونی مظالم کا جواب دے کر اور انہیں ختم کرنے کی صورت ہی میں کیا جا سکتا ہے۔
شیخ الازھرکہہ رہے تھے کہ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی عالم اسلام اورعرب ممالک کی تاریخ جدید کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ بیسویں صدی سے حل طلب ہے۔ اب اکیسویں صدی کا بھی پہلا ایک تہائی حصہ گذر رہا ہےلیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ عالمی فورمز پر ابھی تک حل طلب ہے۔ فلسطین اور القدس ہی وہ اہم تنازعات ہیں جو عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعات کا لب لباب ہیں۔ ہم سمجتھے ہیں کہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کی روک تھام عالمی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ لیکن صہیونی باغیوں نے قبلہ اول کو نقصان پہنچانے۔ بیت المقدس کو اپنی ملکیت بنانے اور فلسطین کو نظرانداز کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ہے۔ یوں بیت المقدس کو خطرات میں ڈال کر عالمی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔عالمی استحکام کو صرف اسی صورت میں بحال اور مستحکم رکھا جا سکتا ہے جب بیت المقدس کے خلاف یہودیوں کے ناپاک ہتھکنڈے بند ہو جائیں۔ مظلوم کو انصاف ملےاور جن لوگوں کےحقوق سلب کیے گئے ہیں انہیں ان کے حقوق ملیں۔
جامعہ الازھر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے عالم اسلام اورعرب ممالک پر زور دیا کہ وہ بیت المقدس کے تحفظ اس کی آزادی، اس کے باشندوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدود جہد کریں اور تمام وسائل کا رخ بیت المقدس کی طرف موڑ دیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی اور عرب ممالک اپنے ہاں بیت المقدس اور مسئلہ فلسطین کو تعلیمی نصاب کاحصہ بنائیں۔ جو شخص جس حد تک کام کر سکتا ہے وہ بیت المقدس کے لیے مدد کرے۔ اگر کوئی کتاب اور پنسل فراہم کر سکتا ہے وہ اس کے ذریعے مدد کرے۔ عالم اسلام کے تمام ذرائع ابلاغ بیت المقدس اور فلسطین کی آزادی کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔علماء مساجد کے پلیٹ فارم سے مسلم امہ میں بیداری پیدا کریں۔
شیخ الازھر نے صہیونی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے فلسطین اور بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو بھلا دیا ہے۔ فلسطین اور قبلہ اول ہمارے دلوں میں بستے ہیں۔ ہم ان کی آزادی کے لیے تمام تر میدانوں اور محاذوں پر جنگ لڑیں گے۔ انہوںنے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت المقدس کی تاریخ مسخ کرنے کی کوششیں نہ کرے،ورنہ اس کے سنگین نتائج کی ذمہ داری بھی صہیونیوں کو برداشت کرنا پڑے گی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

