اسیر کی اہلیہ فیحا شلش نے کہا کہ اس کے شوہر کی بھوک ہڑتال کو 48 دن ہوچکے ہیں۔ وہ پچھلے دو دن سے مسلسل کومے میں ہیں۔اسیر کےوکلاء نے خبردار کیاہے کہ اگر ان کی بھوک ہڑتال ختم نہ کی گئی تو حالت مزید بگڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہوں گے۔
فیحا نے بتایا کہ محمد القیق کےوکیل اشرف ابو سنینہ نے کل اتوار کو جیل میں اپنے موکل کو بے ہوش حالت میں دیکھا ہے۔ وکیل کا کہنا ہے کہ القیق کی حالت تشویشناک ہے۔
اسیر کی اہلیہ نے بتایا کہ اس کے شوہر کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ پچھلے دو دن سے مسلسل کومے میں ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں نے زبردستی ان کے خون کے نمونے حاصل کیے ہیں اور العفولہ جیل میں انہیں جبری خوراک دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ فلسطینی صحافی محمد القیق کو صہیونی فوجیوں نے 24 نومبر 2015 ء کو حراست میں لیاتھا، جہاں انہیں انتظامی قید کے جیل میں ڈال دیا گیا۔ انہوں نے اپنی انتظامی قید کے خلاف بھوک ہڑتال کی توانہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا۔ وہ اب بدستور قید تنہائی میں ہیں جہاں بھوک ہڑتال کے باعث ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
