فلسطینی سیاسی جماعت "پیپلز فرنٹ” کے اسیر سیکرٹری جنرل احمد سعدات نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست بھوک ہڑتالی اسیران کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر ان کے حقوق اور مطالبات کے لیے فوری مداخلت نہ کی گئی تو بھوک ہڑتالی اسیران کی زندگیاں بچانا مشکل ہوجائے گا۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق احمد سعدات نے یہ بات اپنے وکیل سے گفتگو کے دوران کہی جس نے گذشتہ روز اسرائیل جیل "ھداریم” میں ان سے ملاقات کی تھی۔
احمد سعدات نے کہا کہ عالمی برادری اور مسلم ممالک کی جانب سے فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیران کے مطالبات کی حمایت میں کچھ بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔ ادھر اسرائیلی جیل حکام اسیران کی طویل بھوک ہڑتال کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں اور انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنے میں مبینہ غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ صورت حال جوں کی توں برقرار رہی تو بھوک ہڑتالی اسیران کے جیلوں سے جنازے اٹھ سکتے ہیں۔
انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بھی سخت نکتہ چینی کی اور کہا کہ رام اللہ انتظامیہ کی طرف سے بھی بھوک ہڑتالی انتظامی اسیران کی حمایت اور مدد میں کچھ نہیں کیا جا رہا ہے۔ احمد سعدات نے فلسطینی عوام سے اپیل کی وہ اپنے ہڑتالی بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل کر بھرپور احتجاج کریں اور عالمی برادری تک فلسطینی اسیران کے جائز اور آئینی مطالبات کی آواز پہنچائیں تاکہ انہیں صہیونی ریاست کے جرائم اور مظالم سے نجات دلائی جاسکے۔
خیال رہے کہ اسرائیل جیلوں میں انتظامی حراست میں رکھے گئے دو سو سے زائد فلسطینی قیدیوں نے ایک ماہ سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ ان کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کئی دوسرے فلسطینی بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
