(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی جیلوں میں گذشتہ 75 روز سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی صحافی محمد القیق نے صہیونی ملٹری پراسیکیوٹر کی جانب سے مشروط رہائی کی درخواست مسترد کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق محمد القیق کے وکلا اور فلسطینی محکمہ امور اسیران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ صہیونی ملٹری پراسیکیوٹر جنرل کی جانب سے تجویز پیش گئی تھی کہ اگر القیق اگر اپنی بھوک ہڑتال ختم کریں تو انہیں رواں سال مئی میں رہا کردیا جائے گا۔اموراسیران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی پراسیکیوٹر کی جانب سے یہ پیش کش اسرائیل کے عرب رکن کنیسٹ اسامہ السعدی اورصحافی کے وکیل کے توسط سے القیق تک پہنچائی گئی۔
صہونی فوج کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کے جواب میں محمد القیق کا کہنا ہے کہ وہ مشروط طورپر بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ انہیں صہیونی ریاست کی تجویز کسی صورت میں قبول نہیں ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں پیش کی گئی ہے جب محمد القیق العفولہ اسپتال میں ہیں جہاں ان کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
فلسطینی محکمہ اسیران ومحررین کا کہنا ہے کہ القیق کی رہائی اور اس کی جان بچانے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ کوشش ہے کہ القیق کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فوری رہائی کی کوششیں تیز کی جائیں۔
