مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسیر خضر عدنان کا کہنا ہے کہ صہیونی سفاک جیلروں کے ہاتھوں مظالم میرے پہاڑ جیسے عزم کو ہلا نہیں سکتے ہیں۔ آخری سانس تک بھوک ہڑتال جاری رکھوں گا۔ چاہے اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے لیکن صہیونیوں کے سامنے گھنٹے نہیں ٹیکوں گا۔
خیال رہے کہ الشیخ خضر عدنان نے مئی میں اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ عدنان کو اسرائیلی فوجیوں نے پچھلے سال جون میں مغربی کنارے کے جنین شہر سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد اسے مسلسل انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔
ہڑتال شروع کرنے کے بعد گذشتہ روز عدنان کے وکیل نے پہلی بار ان سے جیل میں ملاقات کی۔ بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھوک ہڑتالی اسیر کے وکیل کا کہنا تھا کہ عدنان طویل بھوک ہڑتال کے باعث بہت کمزور ہوچکے ہیں۔ کمزوری کے آثار ان کےچہرے پرصاف دکھائی دیتے ہیں۔ جسم کے مختلف حصوں میں شدید تکلیف کی بھی شکایت ہے اور وزن بہت کم ہوچکا ہے۔ وہ مشکل سے بات کرتے ہیں اور واضح طورپر بات نہیں کی جاسکتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
