(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) ایک ماہ قبل بلغاریہ میں نامعلوم افراد کے حملے میں مارے جانے والے جلا وطن فلسطینی رہنما اور عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے رہنما عمر النایف کے اہل خانہ نے انکشاف کیاہے کہ ان پراور بلغاریہ کی حکومت پر بعض ممالک کی طرف سے سخت دباؤ ہے اور یہ
کہا جار ہاہے کہ النایف کے قتل کی تحقیقات کے لئے جاری کوششیں ترک کرتے ہوئے اس کیس کو سرد خانے میں ڈال دیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق مقتول فلسطینی لیڈر عمرالنایف کی بیوہ نے رام اللہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ بلغاریہ کے پراسیکیوٹر جنرل نے انہیں ٹیلیفون کرکے کہا ہے کہ وہ اپنے وکیل کو بلغاریہ بھیجیں تاکہ عمرالنایف کے قتل سے متعلق ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ اسے فراہم کی جاسکے۔
مقتولہ کی بیوہ کا کہنا تھا کہ انہیں ذرائع سے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ بلغاریہ کی حکومت النایف قتل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے سخت عالمی دباؤ میں ہے اور صوفیا حکومت سے کہا جا رہا ہے کہ وہ النایف کیس کو سرد خانے میں ڈال دے۔
فلسطینی خاتون کا کہنا تھا کہ خود انہیں اور ان کے خاندان کو بھی دھمکی آمیز پیغامات مل رہے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ ہم النایف قتل کیس کی پیروی کرنا چھوڑ دیں۔
النایف کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بلغاریہ کی حکومت بھی النایف کیس کے حوالے سے شش وپنج کا کار دکھائی دیتی ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے پہلے کہا گیا تھا تحقیق کاروں نے النایف قتل کی تحقیقات مکمل کرلی ہیں اور رپورٹ 17 مارچ کو جاری کی جائے گی۔ بعد ازاں ایک نیا بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ تحقیقات کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور مارچ کے آخر تک اس کی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
خیال رہے کہ عمر النایف کو نامعلوم افراد نے فروری میں قائم فلسطینی اتھارٹی کے سفارت خانے کے قریب تشدد کرکے شہید کردیا تھا۔ اس کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ قتل میں اسرائیل کا خفیہ ادارہ موساد ملوث ہے کیونکہ موساد کے ایجنٹ طویل عرصےسے النایف کا تعاقب کررہے تھے۔
