فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف اضلاع اور شہروں میں ہفتے کے روز ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں صدر محمود عباس کی جماعت الفتح
کی بدترین شکست پرفلسطین میں ایک نئی بحث چھڑچکی ہے۔ فلسطینی سیاسی تجزیہ نگاروں اور مبصرین نے انتخابی نتائج کو فتح کےخلاف عوام کا فیصلہ کن رد عمل قرار دیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ مغربی کنارے کے عوام فتح کو پسند نہیں کرتے ہیں اور فتح کے عوامی مقبولیت کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔
مغربی کنارے کے شہرنابلس میں جامعہ النجاح سے وابستہ سیاسی امورکے ماہر ڈاکٹر رائد النعیرات نے مرکزاطلاعات سےگفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے بلدیاتی انتخابات میں فتح کےخلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے، اب فتح کو نوشتہ دیوارپڑھ لینا چاہیے۔کیونکہ فتح نے انتخابات میں جوعوامی حمایت اور ووٹ حاصل کیے ہیں، وہ جماعت کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں فتح کی مقبولیت کے دعوے بے بنیاد تھے، کیونکہ نابلس، جنین، رام اللہ، اور کئی دوسرے بڑے شہروں کی بلدیاتی انتخابات میں فتح کو اپنی مرکزی نشستیں بھی کھونی پڑی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں رائد النعیرات کا کہنا تھا کہ 20 اکتوبر کو صرف مغربی کنارے کے شہروں میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں عوام کے ٹرن آؤٹ نے بھی ثابت کیا ہے کہ رام اللہ حکومت کے تمام ترمیڈیا پروپیگنڈے کے علی الرغم عوام ان انتخابات کے لیے دلی طورپر تیارنہیں تھے کیونکہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس اور اسلامی جہاد جیسی مرکزی مذہبی سیاسی جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔
خیال رہے کہ بیس اکتوبرکو رام اللہ اتھارٹی کی جانب سے مغربی کنارے میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے۔ ان انتخابات میں صدرمحمود عباس کی جماعت الفتح کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
