برطانیہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی یہودیت کےفروغ کی کارروائیوں کو ‘‘اعلان جنگ’’ قرار دیتے ہوئے
سلامتی کونسل سے مقدس شہر کو عالمی تحفظ دلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی کمیٹی کا کہنا ہے کہ بیت المقدس میں مسلمانوں اور عیسائیوں دونوں کی مقدسات کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ قابض ریاست فلسطینیوں کے مکانات کی بلا جواز مسماریوں اور مقدس مقامات کی توہین کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ جو کہ تاریخی شہر کےخلاف ایک سازش ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق برطانوی انسانی حقوق گروپ نے سلامتی کونسل کے نام ایک مراسلہ تحریر کیا ہے جس میں عالمی ادارے کو بیت المقدس کو اسرائیل کے ہاتھوں درپیش سنگین صورت حال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق چارٹر کی دفعہ سات میں مقدس مقامات کو عالمی تحفظ فراہم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم سلامتی کونسل کو اس کا فرض یاد دلاتی ہوئے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ یہودیوں کی سرگرمیوں کی صرف مذمت تک محدود نہ رہے بلکہ بیت المقدس کوعالمی تحفظ فراہم کرے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس سے ہمیں حاصل ہونے والی ٹھوس معلومات اور ناقابل تردید شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ شہر میں اپنی یک طرفہ سرگرمیوں کو جاری رکھ کر عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے بیت المقدس کو یہودیانے کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے اسےانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ تنظیم نے اپنے مراسلے میں کہا ہے کہ پوری دنیا کے انسانی حقوق کے گروپ سلامتی کونسل، جنرل اسمبلی، یورپی یونین، اسلامی تعاون تنظیم اور عرب لیگ سمیت انسانی حقوق کے بڑے گروپوں سے بار بار اپنے مطالبات میں بیت المقدس کی سنگین صورت حال کے بارے میں خبردار کر چکے ہیں۔ لیکن عالمی برادری کی طرف سے بیت المقدس کے بارے میں مبینہ غفلت صہیونیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ترغیب دے رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
