فلسطین کے مقبوضہ شہر بیت المقدس کی آزادی کے لیے سرگرم عرب اورعالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کے زیراہتمام بیت المقدس کی جانب ملین مارچ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ اس سلسلےمیں برطانیہ کے دار الحکومت لندن میں بڑے پیمانے پر مہم جاری ہے اور لوگوں کو بیت المقدس پر اسرائیل کے ناجائز تسلط کےحوالے سے آگاہی مہم جاری ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق پیر کے روزبرطانیہ میں مقیم عرب اور اسلامی برادری، برطانیہ کی فلسطین کی حمایتی تنظیمیں اور یورپی انسانی حقوق کے گروپ ایک بڑے اجلاس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس اجلاس کا مقصد فلسطینی شہر بیت المقدس کی جانب آئندہ مئی میں عالمی ملین مارچ لے جانے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ لندن میں یہ اجلاس فلسطینی رابطہ گروپ اور برٹش۔ فلسطین کلب کی دعوت پر طلب کیا گیا ہے، جس میں برطانیہ اور دیگرممالک کی سیکڑوں اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔
ملین مارچ کی منتظم کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ لندن سے ایک بڑا قافلہ لے کر ملین مارچ میں شامل ہوںگے لیکن اس سے قبل مختلف یورپی ممالک اور فلسطین کے پڑوسی عرب ملکوں میں بھی مختلف ٹیمیں بھیجی جائیں گی جو وہاں پر ملین مارچ کے لیے قافلے منظم کریں گی اور ان کی قیادت کرتے ہوئے بیت المقدس کی جانب مارچ کریں گی۔
اسی سلسلے میں برطانیہ سے روانہ ہونے والا قافلہ پہلے لندن میں قائم اسرائیلی سفارت خانے کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کرے گا، جس کے بعد پورے برطانیہ سے دیگر چھوٹے بڑے قافلوں کے ہمراہ فلسطین کی جانب روانہ ہو گا۔
برطانیہ میں فلسطین کلب کے چیئرمین ڈاکٹر حافظ الکرمی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ لندن میں منعقدہ اجتماع یورپی اور عرب برطانوی تنظیموں کا سب سے بڑا اور نمائندہ اجتماع ہو گا، جس میں القدس ملین مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ نیز اس اجلاس میں اب تک یورپی ممالک کی شامل ہونے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے گروپوں کی تفصیلات بھی پیش کی جائیں گی۔ اس موقع پرکئی عالمی تنظیمیں القدس ملین مارچ کی مہم شمولیت کا بھی اعلان کریں گی، جس کے بعد مہم کےلیے”دنیا فلسطین سے ناجائزتسلط کا خاتمہ چاہتی ہے” کا سلوگن اختیار کیا جائے گا۔
حافظ الکرم کا کہنا تھا کہ القدس ملین مارچ کمیٹی کا اگلا اجلاس 21 فروری کو لندن میں ہو گا، جس میں اب تک ملین مارچ کے لیے کی جانےوالی مساعی کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ یہ سب سے بڑا اجلاس ہو گا جس میں یورپی ممالک کے بڑی تعداد میں سماجی شخصیات شریک ہوں گی۔

