• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

براق صحن سے اسلامی مدرسے کے انہدام کی کہانی سناتی تاریخی تصویر منظر عام پر

ہفتہ 16-06-2012
in فلسطین
0
plf picture
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں نشر رپورٹ کے مطابق القدس کی سنہ 1931ء میں لی گئی ایک قدیم تاریخی تصویر سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے

کہ مسجد اقصی کے صحن براق میں ایک مسجد اور مدرسے کی عمارت موجود ہے جسے بعد ازاں 1967ء میں اپنے قبضے کے بعد اسرائیل نے مسمار کردیا تھا۔

معروف اسرائیلی روزنامے ’’ھارٹز‘‘ کے مطابق یہ تصویز جرمنی کے جنگی جہاز زیبلن سے لی گئی تھی جس میں مسجد اقصی کے براق صحن میں اسلامی مدرسے کی عمارت واضح ہے۔ ماہرین کے مطابق براق صحن میں یہ مدرسہ اوراس سے متصل صلیبیوں کی شکت کے بعد بارہویں صدی میں بنایا گیا تھا۔ یہ مدرسہ صلاح الدین ایوبی کے بیٹے نور الدین علی نے تعمیر کروایا تھا۔ پندرہویں صدی کے ایک نقشے کے مطابق آٹھ سوسال قبل قدیم القدس کے مراکشی کالونی میں تعمیر کیے گئے اس مدرسے کو اسرائیل نے القدس پر قبضے کے بعد منہدم کرڈالا تھا۔ ۔

یاد رہے کہ زیبلن طیارہ جرمنی کا ایک جنگی طیارہ ہے جس سے مسجد اقصی کی یہ تصویر لی گئی ہے۔ القدس کی مراکشی کالونی میں یہ واقع یہ مدرسہ یہاں کا قدیم ترین مدرسہ شمار ہوتا تھا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر معراج کی سواری براق کے ٹھہرنے کے مقام کے بالکل قریب تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مدرسے کو افضل مدرسے کا نام دیا گیا تھا۔ عثمانی دور کے آخر میں اس مدرسے کو نادار لوگوں کی رہائش گاہ میں تبدیل کردیاگیا اور اس کے ساتھ ایک مسجد بھی تعمیر کر دی گئی۔ سنہ 1967ء میں اس مقام پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیلی قومی اکیڈمی کے سربراہ اور معروف تاریخ دان باز کیڈر اس بات اعتراف کرتے ہیں کہ صہیونی روزنامے کے مطابق براق صحن میں موجود اسلامی مدرسے کا انہدام ایک بڑا جرم تھا۔ اس مدرسے کو مسمار کرکے بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کروانے والے بادشاہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی اس مقام پرموجود تینوں نشانیوں کو ختم کر دیا گیا۔

بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.