چھ سال سے اسرائیلی محاصرے میں گھرے فلسطینی ساحلی غزہ کی پٹی میں اس وقت شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اپنے دورہ غزہ کے موقع پر فلسطینی شہداء، اسیران کے اہل خانہ اور اسرائیلی حملوں میں تباہ مکانات کے مالکان سے ملنے سے انکار کردیا۔
باخبر ذرائع نے ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ بان کی مون جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورک ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین کے تعاون سے غزہ کا دورہ کر رہے ہیں نے اپنے شیڈول میں صہیونی عقوبت خانوں میں موجود فلسطینی اسیران کے اہل خانہ سے ملاقات کا وقت دینے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے شہداء کے گھر والوں اور اسرائیلی حملوں میں تباہ ہونے والے مکانات سے ملاقات سے بھی نہ صرف انکار کیا بلکہ اپنے استقبال میں ان لوگوں کے کسی نمائندے کی حاضری کی بھی اجازت نہیں دی۔
ذرائع نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اپنے دورے کے دوران فلسطینی حکومت کے کسی ذمہ دار سے بھی ملاقات نہیں کرینگے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل بھی بان کی مون نے اسرائیل کے ساتھ اپنی طرفداری کا اظہار اس طرح کیا تھا کہ اپنے دورے کے دوران فلسطینی اسیران اور شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات سے انکار کر دیا تھا جبکہ وہ اس دوران فلسطینی مزاحمت کاروں کے زیر حراست اسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کے اہل خانہ سے ملے تھے۔
مزید برآں بان کی مون نے ایک سال قبل اپنے غزہ کے دورے کے موقع پر فلسطینی شہداء اور اسیران کے والدین تک سے ملنا گوارا نہیں کیا تھا اوردوسری طرف مقبوضہ القدس میں گیلاد شالیت کے گھر والوں سے طویل ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر فلسطینی مقامی قیادت نے فلسطینیوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے اور صہیونی ریاست کی بے جا طرف داری پر بان کی مون کے اس دورے کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف فلسطینی تنظیموں اور اداروں کے عہدیداران بان کی مون کے اس متعصبانہ دورے کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر چکے ہیں جس میں انسانی حقوق کے مرکز ’’المیزان‘‘ کے ڈائریکٹرعصام یونس بھی شامل ہیں۔
اسی طرح فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ کے سیاسی مشیر ڈاکٹر یوسف رزقہ جو اس سے قبل بھی بان کی مون کی اس امتیازی روش کو تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اس مرتبہ بھی ان بان کی مون کے اس دورے کے خلاف سخت احتجاج کا ارادہ رکھتے ہیں۔

