اسرائیلی انتہاء پسند یہودی آباد کاروں نے ہفتے کے روز بھی مرکزی شہر رام اللہ کے شمالی گاؤں نبی صالح پر رات دیر گئے حملہ کیا اور اہالیان علاقہ کو گھروں سے نکال کر گھنٹوں سخت سردی میں کھلے آسمان تلے کھڑے رکھا۔
یہودی آباد کاروں کی جانب سے جلیل القدر پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام سے منسوب اب گاؤں پر حملے آئے روز کا معمول بن گئے ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ غاصب یہودیوں نے پہلے گاؤں کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لیا اور پھر اندر گھس کر گاؤں کے وسط میں واقع مسجد تمیمبن اوس الداری میں توڑ پھوڑ شروع کر دی، صہیونی آباد کاروں کے دھاوے کے فورا بعد علاقے کے نوجوانوں نے گھروں سے نکل آئے تاہم اس دوران آباد کار مسجد کے ایک حصےکو نذر آتش کر چکے تھے۔
مقامی افراد کے مطابق فلسطینی نوجوانوں نے یہودی آبادکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کی زد میں آ کر کم از کم ایک صہیونی شدید زخمی ہو گیا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز مغربی کنارے کے 45 فیصد حصے پر قبضہ کے لیے بنائی جانے والی اسرائیلی نسلی دیوار کے خلاف فلسطینیوں کے مظاہروں پر بھی اسرائیلی فوج نے حملہ کر دیا تھا جس دوران بیس فلسطینی زخمی ہو گئے تھے۔

