مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگاروں کے مطابق جمعہ کو علی الصباح ہی بیت المقدس اور مغربی کنارے سے قافلے مسجد اقصیٰ کی جانب چل پڑے تھے جس کے باعث جمعہ کی تقریر شروع ہونے سے قبل ہی مسجد کے تمام ہال،اس کے صحن، راہداریاں اور بیرونی گراؤنڈ نمازیوں سے کچھا کچھ بھر چکے تھے۔
ادھر مسجد اقصیٰ کی تعمیر ومرمت کی ذمہ دار تنظیم الاقصیٰ فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں ماہ رمضان میں تواتر کے ساتھ مسجد اقصیٰ کو آباد رکھنے پر فلسطینیوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کی اتنی کثیر تعداد کا اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں اور پابندیوں کے علی الرغم مسجد اقصیٰ میں موجود رہنا صہیونی حکومت غاصبوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ فلسطینی قوم کے نزدیک مسجد اقصیٰ ان کے جسم و جان اور روح سے بھی زیادہ قریب ہے۔ فلسطینی قبلہ اول کے لیے اپنی تمام تر قیمتی ترین متاع کو بھی صرف کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ فاؤنڈیشن نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قبلہ اول میں اپنی آمد کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ یہودیوں اور غاصب یہودیوں کو مسلمانوں کے پہلے قبلہ کے خلاف سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔
