ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کی سپریم جوڈیشل کونسل کے چیئرمین علی مھنا نے مجسٹریٹ درجے کی فوجی عدالت کے جج کا معاملہ ایگزیکٹو عدالت کو بھجوا دیا ہے جس میں ان کے خلاف باضابطہ کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کی اوسلو معاہدے کو جھٹلانے والے جج کے خلاف کارروائی کے لیے صدر محمود عباس نے عدالتی قانون میں ترمیم کی ہے جس کے بعد جوڈیشل کونسل کو کسی بھی جج کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا اختیار دے دیا گیا ہے۔ فلسطینی جج کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کے حوالے سے فلسطین کے عوامی اور قانونی حلقوں میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
آئین میں ترمیم کے بعد جوڈیشل کونسل اوسلو معاہدے کے انکاری جج کو قید اور جرمانہ کی سزا دے سکتی ہے۔ خیال رہے کہ کچھ عرصہ پیشتر مغربی کنارے کے شہر جنین میں قائم مجسٹریٹ عدالت کے جج احمد الاشقر نے ایک اسرائیلی شخص کے مقدمہ کی سماعت کےدوران اوسلو معاہدے کے تحت فیصلہ کرنے سےانکار کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قانون کے تحت اوسلو معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
