فلسطینی اتھارٹی اوراسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوران صہیونی حکومت نے ہزاروں قیدیوں میں سے چند درجن فلسطینیوں کی رہائی کا اعلان کرکے فلسطینی قوم پر ایک بڑا ‘احسان’ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی جیلوں سے دوسرے مرحلے میں رہائی پانے والےخوش نصیبوں میں غزہ کے آٹھ شہریوں کی شمولیت کا بھی امکان موجود ہے کیونکہ یہ آٹھ بھی سنہ 1994ء میں طے پائے اوسلو معاہدے سے پہلے صہیونی جیلوں میں ڈالے گئے تھے۔
فلسطینی اسیران کے دفاع کے لیے سرگرم تنظیم”مرکزاحرار” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اوسلو معادے سے پہلے حراست میں لیے گئے آٹھ فلسطینیوں کوعمر قید کی سزاؤں کا سامنا ہے۔ ان میں حملی العماوی اور علاء الدین اب ستہ قدیم قیدی شمار کیے جاتے ہیں۔
بیان میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی جیلوں سےپہلے مرحلے میں پندرہ اسیران کی رہائی عمل میں لائی گئی تھی۔ اب آٹھ اسیران کی دوسرےمرحلے میں رہائی کا امکان ے۔ پہلے مرحلے میں مقبوضہ بیت المقدس کے 12، اندرون فلسطین کے 14 اور مغربی کنارے کے 44 قیدیوں کو رہا گیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
