خیال رہے کہ امریکی انسانی حقوق کی کارکن ریچل کوری نے سنہ 2002ء میں فلسطینیوں سے یکجہتی کےعالمی قافلے میں شامل ہوئی تھیں اور سولہ مارچ 2003ء کو مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرنے والے ایک فوجی بلڈوزر کے سامنے کھڑے ہو کر احتجاج شروع کیا۔ اس موقع پر صہیونی فوجی نے بلڈوزر کے ذریعے مکان کی مسماری جاری رکھی جس کے نتیجے میں ریچل کوری بھی وہیں بلڈوزر لگنے سے جاں بحق ہو گئی تھیں۔
اخبار‘‘ہارٹز’’کے مطابق ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے کی گئی تازہ تحقیقات میں بتایا گیا ہےکہ فوج اور حکومت نے ریچل کوری کے قتل کی جو تحقیقات کی ہیں ان میں بڑے پیمانے پر جعل سازی کی گئی ہے اور حقائق کو چھپاتے ہوئے مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں منظرعام پرآئی ہے کہ جب دوسری جانب کوری کے ورثاء والد سینڈے والدہہ وکریگ اور ہمشیرہ سارہ اسرائیل میں موجود ہیں جہاں آئندہ منگل کو ریچل کوری سول عدالت سے قاتلوں کے خلاف فیصلہ سنائے جانے کی تیاریاں کی جار ہی ہیں۔ ملزمان کو بچانے کی کوشش کے تحت تیارکی گئی تحقیقات رپورٹ کے بارے میں یہ رپورٹ مقتولہ کے لواحقین کو اسرائیل کےخلاف ایک نئے مقدمہ کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اسرائیل روانگی سے قبل ریچل کوری کے والدین واشنگٹن میں تعینات اسرائیلی سفیرڈانینل شابیرا سے بھی ملاقات کی تھی اوراسرائیلی انتظامیہ کے خلاف نئے مقدمہ کے بارے میں اپنےفیصلے سےآگاہ کیا تھا۔ کوری کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں امریکی حکومت کی طرف سے بھی تعاون حاصل ہے اور امریکی انتظامیہ نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کوری کے قاتلوں کےخلاف انصاف اور قانون کے مطابق کارروائی کر کے مظلوم خاندان کو انصاف دلائے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
