فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت تحریک الفتح کی سینٹرل کمیٹی کے رکن عباس زکی نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے امریکی وزیر خارجہ جان کیری پر کڑی تنقید کی ہے۔ دوسری جانب فتح کی قیادت نے عباس زکی امریکی ثالثوں پر تنقید پر خاموشی اختیار کی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کی سینٹرل کمیٹی کے رکن عباس زکی نے رام اللہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ثالثی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے حقوق پر بلیک میل کررہا ہے۔ انہوں نے امریکیوں کے لیے بھی "صہیونی” کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور صہیونی ریاست کی ملی بھگت سے امن مذاکرات سبوتاژ کیے ہیں۔
عباس زکی کے بیان پر رد عمل میں فتح کی جانب سے جاری ایک بیان میں امریکا پر تنقید کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس زکی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی امن مندوب مارٹن انڈیک پر جو تنقید کی ہے وہ خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ عباس زکی کا بیان پارٹی موقف نہیں بلکہ یہہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فتح کی سینٹرل کمیٹی کے رکن عباس زکی نے رام اللہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ثالثی کرتے ہوئے فلسطینیوں کو ان کے حقوق پر بلیک میل کررہا ہے۔ انہوں نے امریکیوں کے لیے بھی "صہیونی” کی اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور صہیونی ریاست کی ملی بھگت سے امن مذاکرات سبوتاژ کیے ہیں۔
عباس زکی کے بیان پر رد عمل میں فتح کی جانب سے جاری ایک بیان میں امریکا پر تنقید کو ان کی ذاتی رائے قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عباس زکی نے مشرق وسطیٰ میں امریکی امن مندوب مارٹن انڈیک پر جو تنقید کی ہے وہ خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں۔ عباس زکی کا بیان پارٹی موقف نہیں بلکہ یہہ ان کی ذاتی رائے ہے۔
خیال رہے کہ عباس زکی نے فیس بک پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں بھی امریکا اور اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیلی انتہا پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
