رپورٹ کے مطابق رام اللہ میں اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب کے دفتر میں جمع کی گئی یاداشت میں محمد القیق کی بھوک ہڑتال اور صحافی کی زندگی کو لاحق خطرات کے حوالے سے تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ پیٹیشن میں کہا گیا ہے کہ صہیونی فوج نے فلسطینی صحافی کوبلا جواز انتظامی حراست کی سزا کے تحت پابند سلاسل کررکھا ہے۔ فلسطینی قیدی نے ظالمانہ سزا کے خلاف اڑھائی ماہ سے زائد عرصے سے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے جس کے باعث اس کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ صہیونی جیل میں بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد اسامہ القیق کی رہائی کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے۔
فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم‘‘ مرکز برائے انسانی حقوق’’ کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن میں محمد القیق کی بھوک ہڑتال کے باوجود اسے حراست میں رکھنے کو عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی فوج داری قوانین کی رو سے کسی بھوک ہڑتالی کو مسلسل حراست میں رکھنا جنگی جرم ہے۔ ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے آئین کے آرٹیکل 7 ایک اور چوتھے جنیوا انسانی حقوق کے آرٹیکل 147 کی رو سے بھوک ہڑتالی قیدیوں کو مسلسل حراست میں رکھنا وحشیانہ عمل اور جنگی جرم تصور کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پابند سلاسل سات ہزار فلسطینیوں میں سے 700 فلسطینیوں کو انتظامی حراست کی پالیسی کے تحت بغیر مقدمہ چلائے قید رکھا گیا ہے۔ ان میں 77 دن سے بھوک ہڑتال کرنے والے صحافی محمد القیق بھی شامل ہیں، جنہیں صہیونی حکام نے پچھلے سال 21 نومبر کو حراست میں لیا۔ دوران حراست انہیں وحشیانہ تشدد کا بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں انہیں انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل کردیا گیا مگر القیق نے اپنی بلا جواز اسیری کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کردی۔ یہ بھوک ہڑتال آج بھی جاری ہے۔
