مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے سرکاری اور نجی ابلاغی اداروں اور حکومت سب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے ایک مختصر بیان میں مصر عدالت کے فیصلے کی تحسین کی ہے جبکہ ٹی وی چینلوں پر صرف ”القسام” پر پابندی اور حماس کی جانب سے اس کی مذمت کی خبر نشر کی گئی۔ خلاف معمول اس موضوع کو اسرائیلی میڈیا میں اتنا نہیں اچھالا گیا جتنا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے۔ ورنہ اسرائیل کے پاس حماس کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے لیے یہ ایک بہترین موقع تھا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اسرائیلی میڈیا اور حکومت کے معنی خیز خاموشی پر مبنی طرز عمل پر حیرت ہے۔ صرف ایک عبرانی اخبار "ہارٹز” کے ادارتی صفحے پر زیپی بارئیل کا ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں فاضل کالم نگار نے لکھا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروپ عرب ممالک کی اسرائیل کے خلاف ایک ضرورت رہے ہیں۔ مصر کی عدالت کی طرف سے القسام بریگیڈ پر پابندی کا فیصلہ عرب ممالک کے مقدس قضیے پر ایک کاری ضرب ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ کوئی بھی مسلمان یا عرب ملک اگر غزہ کی پٹی کے عوام کی مدد کرنا چاہے تو انہیں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ مصر کی جانب سے القسام پر پابندی کے بعد قاہرہ حکومت حماس کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کرے گی۔ اس سے حماس کے لیے مزید مشکلات پیدا ہوں گی۔
خیال رہے کہ ہفتے کے روز علی الصباح مصر کی ایک ماتحت عدالت نے القسام بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ مصری عدالت کی جانب سے رات گئے تک اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ رات ساڑھے نو بجے ایک مختصر بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ حکومت عدلیہ کی آزادی کا احترام کرتی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
