مقبوضہ بیت المقدس کی یہودی بستی جعفات شاول کے تین انتہاء پسند یہودیوں نے ایک 75 سالہ بزرگ فلسطینی خاتون پر حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شدید زخمی ہوگئی ہیں۔ ان کے جسم کے مختلف حصوں پر زخم آئے ہیں۔
”ام عبد” نامی بزرگ خاتون کے بیٹے عبد عجاج نے بتایا کہ ان کی والدہ یہودی بستی ”جفعات شاول” کے ہسپتال میں زیر علاج اپنے بھائی کی عیادت کے لیے گئی تھیں، اتوار کی دوپہر دو بجے جب وہ ہسپتال سے واپسی پر مرکزی شاہراہ پر گاڑی کے انتظار میں کھڑی تھیں کہ اچانک تین شدت پسندوں، جنہوں نے مذہبی انتہاء پسندوں کا سا لباس پہن رکھا تھا، نے ان پر حملہ کردیا اور انہیں زمین پر چت کرکے مارنا شروع کردیا۔ یہودیوں نے بزرگ خاتون پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی، اور اس دوران ”عربوں کے لیے موت” کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
عبد عجاج نے بتایا کہ ان کی پہلے سے بیمار والدہ کو تین مقامات پر زخم آئے ہیں۔ ادھر القدس کی ہی دو نوجوان لڑکیوں نے اسرائیلی پولیس کو ایک یہودی آباد کار کے خلاف شکایت درج کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس یہودی نے انہیں جمعہ کی شام شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
ان دونوں لڑکیوں نے بتایا کہ وہ دونوں اپنے کام پر جا رہی تھیں کہ اس یہودی آباد کار نے ان پر حملہ کیا جس سے ان کو شدید زخم آئے اور ان کی بعض ہڈیاں بھی ٹوٹ گئیں، لیالی عمران الصیاد کی عمر بائیس سال ہے اور ان کا تعلق الطور کالونی سے ہے۔ ان کی ناک کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے اور ان کی آنکھ کے نیچے سے چہرے کی کھال پھٹ چکی ہے، اسی طرح پورے جسم پر جگہ جگہ زخم موجود تھے۔ اسی طرح واد قدوم کالونی کی اکیس سالہ انوارابو رموز کی ناک کی ہڈی بھی ٹوٹ چکی ہے اور ان کے چہرے پر بھی شدید زخم موجود ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
