فلسطینیوں کے حقوق کے لیے سرگرم مختلف تنظیموں کے ایک یونین نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل حکومت نے مشرقی القدس کو یہودی رنگ میں رنگنے کے اپنے منصوبے پر عمل تیز کرتے ہوئے یہاں پہلے سے موجود یہودی بستیوں کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہودی آباد کاری کے اس منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی اراضی کو ہتھیانے کا منصوبہ تشکیل دیدیا گیا ہے۔
یونین نے کہا کہ اسرائیلی شعبہ ارضیات نے حال ہی میں یہودی بستی کو توسیع دینے کے لیے فلسطینیوں کی اراضی پر قبضہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 2975مربع میٹر کی اس اراضی پر قبضہ کر کے یہاں پر یہودیوں کو بسانے کے لیے گھر تعمیر کیے جائیں گے۔ اس منصوبے کے تحت فلسطینی زمین پر ایک کلف ہوٹل بھی قائم کیا جائے گا۔
اعلان کے مطابق اس زمین پر قبضہ زمینوں سے متعلق قوانین کی پانچویں اور ساتویں شق کے تحت کیا جائے گا۔ ان شقوں کے مطابق اسرائیل مفاد عامہ، فوجی استعمال اور سکیورٹی اغراض کے لیے کسی بھی فلسطینی اراضی پر قبضہ جما سکتا ہے۔ اسرائیل کے پاس اراضی پر قبضے کا جواز پیدا کرنے کے بارہا طریقے ہیں، اسرائیی حکومت کو صرف یہ کہنا ہے کہ یہ زمین دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ہے۔ اسرائیل نے مغربی کنارے میں بالعموم اور القدس میں بالخصوص اپنی عسکری تربیتی کارروائیاں بڑھا دی ہیں۔
اسرائیل کے حالیہ منصوبے میں مودیعین علیت کی یہودی بستی کو توسیع دی جائیگی۔3 210/06/0 نمبر منصوبے کے مطابق دیر قیس کی اراضی پر حوص نمبر دو کی قریبی اراضی پر یہ منصوبہ تشکیل دیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد زرعی علاقے کو رہائشی استعمال میں لانا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
